سرینگر:’’پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بھارت کے پڑوس میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو تقویت دینے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے‘‘، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز اپنے پولستانی ہم منصب راڈوسواف سِکوراسکی سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔
یہ بیان بظاہر گزشتہ برس پولینڈ اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کشمیر اور دہشت گردی کے ذکر کے تناظر میں دیا گیا۔
جے شنکر نے یوکرین جنگ کے حوالے سے یورپی ممالک کی جانب سے بھارت کو ’انتخابی طور پر نشانہ بنانے‘ کا مسئلہ بھی دو ٹوک انداز میں اٹھایا اور اس رجحان کو غیر منصفانہ اور بے بنیاد قرار دیا۔
یہ تبصرے سِکوراسکی کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر جے شنکر کے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ریمارکس کا حصہ تھے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں سِکوراسکی کے اسلام آباد دورے کے بعد پولینڈ۔پاکستان مشترکہ بیان میں کشمیر کے مسئلے اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے حوالے سے دیے گئے اشارے نئی دہلی میں خوش آئند نہیں سمجھے گئے تھے۔ رواں ماہ کے آغاز میں پیرس میں منعقدہ ویمار ٹرائینگل پلس فارمیٹ کی ایک میٹنگ، جس میں جے شنکر بھی شریک تھے، کے دوران سِکوراسکی نے روسی تیل کی بھارت کی درآمدات میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ’یہ روسی صدر ولادیمیر‘ پوٹن کی جنگی مشین کو مالی اعانت فراہم کر رہی تھیں‘‘۔
جے شنکر نے اپنے ٹیلی وژن ریمارکس میں سرحد پار دہشت گردی کے دیرینہ چیلنج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’میں اس ملاقات میں خطے کے حوالے سے آپ کے حالیہ دوروں پر بات کرنے کی امید رکھتا ہوں۔ پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس دکھانا چاہیے اور ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو ایندھن فراہم کرنے میں مدد نہیں کرنی چاہیے‘‘۔
وزیر خارجہ نے گزشتہ ستمبر نیویارک اور اس ماہ پیرس میں سِکوراسکی کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین تنازع اور اس کے مضمرات پر بھارت کے خیالات صاف صاف انداز میں پیش کر چکے ہیں۔
جے شنکر نے کہا’’ایسا کرتے ہوئے میں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو انتخابی طور پر نشانہ بنانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ بے بنیاد بھی ہے‘‘۔سِکوراسکی نے کہا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے معاملے میں جے شنکر سے اتفاق کرتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ پولینڈ خود بھی’’آتش زنی اور ریاستی دہشت گردی کی کوششوں‘‘کا شکار رہا ہے، جن میں حال ہی میں ایک متحرک ٹرین کے نیچے پولستانی ریلوے لائن کو دھماکے سے اڑانے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا’’میں ٹیرف کے ذریعے انتخابی نشانہ بنائے جانے کی ناانصافی پر بھی آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، اور یورپ میں ہم اس بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں‘‘۔سِکوراسکی کے ان ریمارکس کے بعد جے شنکر نے وضاحت کی کہ ’’انتخابی نشانہ بنانا صرف ٹیرف تک محدود نہیں‘‘بلکہ اس کی دیگر شکلیں بھی ہیں۔
اکتوبر۲۰۲۵کے پولینڈ۔پاکستان مشترکہ بیان میں’کشمیر تنازع‘ کا حوالہ دیا گیا تھا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل پر زور دیا گیا تھا۔ اس میں جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا تھا۔ اگرچہ بیان میں دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کی گئی، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ’’کوئی ریاست ان عناصر کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کرے جو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی اعانت، منصوبہ بندی، حمایت یا انجام دہی کرتے ہیں‘‘۔
پاکستان کے ساتھ مشترکہ بیانات میں اس طرح کے حوالہ جات عموماً بھارت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ بھارت بارہا اپنے پڑوسی ملک پر دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان دوطرفہ طور پر ہی حل ہو سکتا ہے۔
جے شنکر اور سِکوراسکی کی ملاقات میں دونوں فریقوں نے۲۰۲۸۔۲۰۲۴کے دوطرفہ ایکشن پلان کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سلامتی، صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل اختراع میں تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
پولینڈ وسطی یورپ میں بھارت کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور۲۰۲۴میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچایا تھا۔ اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم۷؍ارب ڈالر ہے، جو گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً۲۰۰فیصد بڑھ چکا ہے۔
پولینڈ میں بھارتی سرمایہ کاری۳؍ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، اور جے شنکر نے کہا کہ بھارت کی اقتصادی ترقی، منڈی کا حجم اور سرمایہ کاری کے حامی پالیسیاں پولستانی کاروبار کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔
پولینڈ نے مجوزہ بھارت۔یورپی یونین (ای یو) آزاد تجارتی معاہدے کی بھی حمایت کی ہے، جس پر مذاکرات۲۷جنوری کو نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔ای یو سربراہی اجلاس کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
سِکوراسکی، جنہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال سے بھی ملاقات کی، نے ایک میڈیا بریفنگ میں تسلیم کیا کہ بھارتی فریق نے پاکستان سے متعلق دہشت گردی کے خدشات اٹھائے، جبکہ پولستانی فریق نے گزشتہ سال روس کی میزبانی میں ہونے والی زاپاد فوجی مشق میں بھارت کی شرکت پر بات کی۔
انہوں نے کہا’’دہشت گردی کے معاملے پر ہم یکساں سوچ رکھتے ہیں‘ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ہم کھل کر اُن باتوں پر گفتگو کر سکے جو ہمارے ذہنوں میں تھیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہمارے دونوں ممالک بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں، خواہ وہ ٹینکوں کے ذریعے ہو یا دہشت گردوں کے ذریعے۔ بھارت اور پولینڈ دونوں سرحد پار دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، اور اسی لیے ہم اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘‘۔
سِکوراسکی نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارت ’’ان ممالک میں شامل ہوگا جو یوکرین کے خلاف جارحیت کے مرتکب فریق پر زور دیں گے‘‘ کہ وہ مزید خونریزی کے بغیر اس مسئلے کو حل کرے۔










