سرینگر: دریائے جہلم میں پیش آنے والے ایک المناک کشتی حادثے کے تقریباً دو سال بعد، پیر کے روز آخری لاپتہ شخص کی تلاش اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب مقامی لوگوں نے سرینگر کے علاقے لَسجن کے قریب شوکت احمد شیخ کی لاش برآمد کی۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایک افسوسناک دریافت کے بعد ہوئی، جب ریت نکالنے کے دوران شیخ کا کٹا ہوا پاؤں ملا، جسے بعد میں ان کی اہلیہ نے شناخت کیا۔
حکام کے مطابق، جیسے ہی پاؤں کی شناخت ہوئی، تلاش کی کارروائی فوری طور پر تیز کر دی گئی۔ بیوہ نے جوتے کی بنیاد پر پاؤں کی شناخت کی تھی۔
یہ حادثہ۱۶؍اپریل۲۰۲۴کو پیش آیا تھا، جب لسجن کے قریب گنڈبل کے مقام پر دریائے جہلم میں ایک کشتی، جس میں ایک درجن سے زائد افراد سوار تھے، الٹ گئی تھی۔ اس حادثے میں نو افراد ڈوب گئے تھے، جبکہ پانچ دیگر کو اسی دن بچا لیا گیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں سے چھ لاشیں حادثے کے روز ہی برآمد کر لی گئی تھیں، جبکہ دو دیگر لاشیں پولیس اور نیوی کے میرین کمانڈوز کی مشترکہ تلاش کے دوران کچھ عرصے بعد ملی تھیں۔
تاہم شوکت احمد شیخ تقریباً۲۱ماہ تک لاپتہ رہے، حالانکہ حکام اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تلاش کی کوششیں کی جاتی رہیں۔










