جموں: لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے جمعہ کو لوک بھون میں جموں یونیورسٹی کی یونیورسٹی کونسل کی۸۹ویں میٹنگ کی صدارت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں منعقدہ یونیورسٹی کونسل کے اجلاس میں متعدد ایجنڈا آئٹمز اور تجاویز کو اصولی منظوری دی گئی، جن میں قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی)۲۰۲۰؍اور یو جی سی رہنما خطوط سے ہم آہنگ مختلف دفعات کی شمولیت شامل ہے۔ ان میں اسٹریٹجک ایکشن پلان(۲۰۲۵تا۲۰۳۰) کی منظوری؛ ریاضیاتی علوم میں پانچ سالہ انٹیگریٹڈ یو جی پی جی پروگرام کا آغاز؛ اساتذہ کو ڈیوٹی لیوز دینے سے متعلق رہنما خطوط؛ جموں یونیورسٹی اینیمل ویلفیئر کلب کا قیام؛ علاقائی مطالعات، ثقافت، جدلیات اور جذباتی ذہانت کے مرکز(سی آر سی ڈی اینڈ ای آئی)کا قیام؛ اور چار سالہ انڈر گریجویٹ پروگرام میں بی ٹیک (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا نام تبدیل کر کے بی ٹیک (انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ میتھمیٹیکل انوویشن) رکھنا شامل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو اختراع اور تحقیق میں معیار قائم کرنا ہوگا اور نصاب میں باقاعدگی سے نظرثانی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت(اے آئی)اور جدید آئی ٹی ٹیکنالوجیز کو شامل کرنا ہوگا۔
سنہا نے کہا’’یہ وقت ہے کہ یونیورسٹیاں آگے بڑھیں اور اختراع کی قیادت کریں، مہارتیں پیدا کریں اور سماج کے مشکل ترین مسائل کے حل میں کردار ادا کریں‘‘۔انہوں نے جموں یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ طلبہ کی ملازمت کے مواقع بڑھانے کے لیے مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے اور موجودہ اسکل ڈیولپمنٹ کورسز کا جامع اثراتی جائزہ لیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی ثقافتی ورثے، زبانوں اور فنون کے مطالعے کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے اور صوفی اسٹڈیز کے لیے گرو نانک دیو چیئر کی بحالی کی بھی ہدایت دی۔
سنہا نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو قدرتی آفات کے لیے جدید ابتدائی انتباہی نظام تیار کرنے چاہئیں اور مقامی مسائل کے عملی حل فراہم کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے تنہائی میں کام نہیں کر سکتے بلکہ انہیں سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے تمام یونیورسٹیوں میں اینیمل ویلفیئر کلب قائم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
ایل جی نے مزید کہا’’یہ یونیورسٹیز 2.0 کا دور ہے۔ جامعات کو محض ڈگریوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کیمپس کو تخلیقی حل اور سماجی تبدیلی کے مراکز میں تبدیل کرنا چاہیے۔ انہیں خیالات، صلاحیتوں اور حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کی تیاری کا پاور ہاؤس بننا ہوگا‘‘۔
کونسل نے گاندھی سینٹر فار پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈیز کی پیش رفت اور آئی ٹی سے جڑی خدمات کے فروغ کا بھی جائزہ لیا۔ انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر نے ای-آفس نظام کو مؤثر بنانے، آئی ٹی سے مربوط خدمات کے نفاذ اور تمام جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت دی۔
سنہا نے یووا کنیکٹ پروگرام میں نوجوانوں کی زیادہ شرکت اور نشہ مکّت بھارت مہم سمیت دیگر قومی بیداری مہمات میں ان کی فعال شمولیت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں مختلف عہدوں پر براہِ راست بھرتیوں کے عمل کو ہموار بنانے، یونیورسٹی کی جامع اور مؤثر اسپورٹس پالیسی کے نفاذ، اور تدریس، تعلم اور تحقیق کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر اُمیش رائے نے یونیورسٹی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس میں مختلف کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ رجسٹرار یونیورسٹی نے کونسل کے سامنے مختلف ایجنڈا آئٹمز رپورٹ، غور و فکر اور توثیق کے لیے پیش کیے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ جموں یونیورسٹی کو انسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت’پارٹنرشپس فار ایکسیلیریٹڈ انوویشن اینڈ ریسرچ‘ پروگرام میں آئی آئی ٹی دہلی کو حب ادارہ قرار دیتے ہوئے ایک اسپوک ادارے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
کونسل کو گزشتہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔










