سرینگر: وادی کشمیر کے بالائی علاقوں بشمول سیاحتی مقامات پر تازہ برفباری ہوئی ہے ۔برفباری کے اس نئے سلسلے نے نہ صرف سردی بڑھا دی ہے بلکہ وادی کے موسم سرما کو بھی ایک نئی کروٹ دے دی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ گریز کے بیشتر حصوں میں دو انچ تک برف جمع ہوئی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برفباری دیر سے شروع ضرور ہوئی، لیکن اس تازہ سلسلے سے پانی کے ذخائر اور موسمِ بہار کی تیاریوں میں فائدہ ہوگا۔ گریز میں سڑکوں اور گلیوں پر برف کی تہہ جم چکی ہے اور ٹھنڈی ہوا نے ماحول مزید سخت کر دیا ہے ۔
زوجیلا پاس، جو لداخ اور کشمیر کے درمیان اہم رابطہ ہے ، بھی برف کی لپیٹ میں آ گیا ہے ۔ یہاں تقریباً دو انچ برف پڑنے کے بعد ٹریفک کو انتہائی احتیاط سے گزارا جا رہا ہے ۔ فوج اور ٹریفک حکام نے سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے بھاری گاڑیوں کو کچھ دیر کے لیے روک دیا، جبکہ مشینری کو برف ہٹانے کے لیے تیار رکھا گیا ہے ۔
سادھنا ٹاپ میں تین انچ تک برفباری ریکارڈ ہوئی ہے جس سے کئی دیہاتی راستے دشوار ہو گئے ہیں۔ اس علاقے میں عام طور پر سردیوں میں سفر دشوار ہو جاتا ہے ، اور تازہ برف نے حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے ۔ مقامی انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ لوگ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ادھر گلمرگ، سونہ مرگ اور دودھ پتھری جیسے سیاحتی مقامات پر بھی ہلکی برفباری ہوئی، جس نے ان وادیوں کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے ۔
وادی کے میدانی علاقوں میں البتہ برف نہیں پڑی، لیکن آسمان ابر آلود رہا اور سردی پہلے سے زیادہ محسوس ہوئی۔ لوگوں کو دن بھر ٹھنڈی ہواؤں کا سامنا رہا جبکہ رات میں درجہ حرارت مزید کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ وادی کی طرف بڑھ رہا ہے ، جس کے باعث آئندہ دو سے تین دن بھی برفباری اور بارش کے آثار موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سلسلے سے میدانی علاقوں میں بھی برف پڑنے کا امکان ہے ۔
موسم کے اس تازہ بدلاؤنے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے ، وہیں امید بھی پیدا کی ہے کہ تاخیر سے آنے والی سردیوں کو اب مناسب برفباری ملنا شروع ہو گئی ہے ، جو زرعی اور پانی کے نظام کے لیے ضروری ہے ۔
اس دوران یکے بعد دیگرے دو مغربی ہواؤں کے داخل ہونے کے نتیجے میں وادی کشمیر میں اگلے دس دنوں کے دوران موسمی صورتحال دگرگوں رہنے کا امکان ہے اور اس دوران۲۲سے۲۵جنوری تک وسیع پیمانے پر برف وباراں کی توقع ہے ۔
موسمیات محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں۱۶سے۱۸جنوری تک موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں کہیں ہلکی برف یا بارشوں کا امکان ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے بعد ایک کمزور مغربی ہوا کے زیر اثر وادی میں۱۹؍اور۲۰جنوری کو موسم عام طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران وسیع پیمانے پر ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارشیں ہوسکتی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ وادی میں۲۱جنوری کو موسم جزوی سے عام طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری کا امکان ہے ۔
ترجمان نے بتایا کہ بعد میں۲۲جنوری کو ایک مضبوط مغربی ہوا کے داخل ہونے کے نتیجے میں۲۵ جنوری تک بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے جس کا زیادہ اثر۲۳؍اور۲۴جنوری کو رہ سکتا ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ اس دوران پیر پنچال اور چناب وادی کے کچھ اضلاع اور جنوبی کشمیر کے اضلاع میں درمیانی سے بھاری برف باری کا امکان ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ۲۶جنوری کو موسم ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران کہیں کہیں ہلکے درجے کا برف وباراں متوقع ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ اس دوران خاص طور پر۱۹؍اور۲۰جنوری اور بعد میں۲۲سے۲۴جنوری تک مغل روڈ، سنتھن ٹاپ، سادھنا پاس، زوجیلا اور رازدان ٹاپ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل متاثر رہ سکتی ہے ۔
مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ خاص طور پر۲۳؍اور۲۴جنوری کو محکمہ ٹریفک اور انتظامیہ کی طرف سے جاری ایڈوائزرز کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں جبکہ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دوران کاشتکاری سے متعلق کام بند رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران کہیں کہیں لینڈ سلائیڈنگ کے بھی خطرات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جموں صوبے میں آنے والے دنوں کے دوران دھند میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے اور درجہ حرارت میں بھی اضافے کی توقع ہے ۔
دریں اثنا وادی میں چلہ کلاں کے آخری دنوں کے دوران وسیع پیمانے کے برف و باراں کی پیش گوئی سے اہلیان وادی خاص طور پر کسانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ چلہ کلاں میں ہونے والی برف باری کافی فائدہ مند ہوتی ہے ۔










