’ اگر امن یا دوستی ہوگی تو پاکستانی فوج کی اہمیت کم ہو جائے گی‘ اس کا مقصد ٹکرا ؤکی صورتحال کو زندہ رکھنا ہے ‘
نئی دہلی: فوج کی مغربی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار نے کہا ہے کہ پاکستان میں نہ تو ہندوستان کے خلاف روایتی جنگ لڑنے کی ہمت ہے اور نہ ہی صلاحیت، اسی لیے وہ صرف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان کو نقصان پہنچانے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے ۔
لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے ہفتہ کے روز مغربی کمان کی اعزازاتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک صرف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس کی اعزازاتی تقریب میں بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ مغربی محاذ پر کشیدگی کے امکانات برقرار ہیں کیونکہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ نہیں ہو سکے ہیں۔
فوجی کمانڈر نے کہا کہ ہندوستان کی انتھک کوششوں کے باوجود صورتحال وہی ہے کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت ہمیشہ اس کی فوج کے ہاتھوں میں رہی ہے ۔ فوج دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا ماحول برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ اگر امن یا دوستی ہوگی تو پاکستانی فوج کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ اس کا مقصد ٹکرا ؤکی صورتحال کو زندہ رکھنا ہے ۔
لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے کہا کہ پہلگام میں جو کچھ ہوا وہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔ پہلگام دہشت گرد حملے میں۲۶شہریوں کے بہیمانہ قتل کے بعد ہندوستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کو سخت سبق سکھایا۔ انہوں نے کہا’’ہم نے ان کے دہشت گرد ٹھکانوں، ان کی چوکیوں اور ان کے ایئر بیس کو تباہ کیا۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان اس سے سبق لے گا اور آئندہ کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کو انجام نہیں دے گا۔‘‘
فوج کو چوکس اور تیار رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی قیادت اپنے ملک کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے یا اپنے مفادات کے لیے کسی اور مہم جوئی کی کوشش کر سکتی ہے ۔
لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط تیاریاں جاری رکھنی ہوں گی کیونکہ اس بار تصادم محدود نہیں رہ سکتا۔ فوج کو تمام محاذوں پر اور ہر سطح پر لڑنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
فوجی کمانڈر نے کہا کہ مغربی سرحد پر جنگ کی صورت میں ملک کو اپنی دفاعی افواج سے دشمن پر فیصلہ کن فتح کی امید ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی تیاریوں کو برقرار رکھیں اور انہیں مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی سازش مذہب کا استعمال کر کے ملک کو کمزور کرنے کی ہے ۔
مسلح افواج کی شمولیتی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج میں ملک کے ہر خطے سے ، ہر مذہب اور ذات کے لوگ شامل ہیں اور یہ اتحاد میں تنوع کی ایک زندہ مثال ہے جسے برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ انہوں نے فوجیوں کے لیے مضبوط تربیتی نظام اور جدید ہتھیاروں کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔










