بھدرواہ: حکام نے ہفتہ کے روز بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے بعد جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں واقع برف سے ڈھکے سیاحتی مقامات پر سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
بھدرواہ،پٹھانکوٹ شاہراہ کے ساتھ واقع مقبول بلند پہاڑی چراگاہوں، جن میں چترگلہ ‘، پنج نالہ؍ اور گلڈنڈا شامل ہیں، پر سکیورٹی اہلکاروں کی نمایاں تعیناتی کا مقصد سیاحوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے۔
سخت موسمی حالات کے باوجود، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اور نیم فوجی دستوں کی مضبوط موجودگی، مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کے ساتھ مل کر، ابتدائی خدشات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور برف میں کھیلنے جیسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ونود شرما نے پی ٹی آئی کو بتایا’’بھدرواہ خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، تاہم وادی کے گرد و نواح میں واقع بلند پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری سنگین سکیورٹی چیلنجز پیدا کرتی ہے، کیونکہ سیاح اکثر برف سے ڈھکی چراگاہوں اور دروں کی جانب رخ کرتے ہیں، خاص طور پر بھدرواہ،پٹھانکوٹ شاہراہ اور بھدرواہ،چمبا بین الریاستی سڑک کے ساتھ‘‘۔
حالیہ برف باری اور نہایت سخت موسمی حالات، جہاں رات کے درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے کئی ڈگری نیچے چلے جاتے ہیں، کے باوجود سکیورٹی فورسز بلند پہاڑی سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ خود کو پوری طرح محفوظ محسوس کریں۔
سیاح چوبیس گھنٹے سکیورٹی انتظامات اور مقامی دکانداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مہمان نوازی کو بھی سراہ رہے ہیں۔
مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے سیاح وشال شرما نے کہا’’یہاں آنے سے پہلے ہمیں سکیورٹی کے حوالے سے کچھ خدشات تھے، لیکن گلڈنڈا پہنچنے اور چترگلہ پاس دیکھنے کے بعد ہمارے تمام خوف ختم ہو گئے۔ ان برف پوش دروں پر پولیس کی موجودگی بہترین ہے، جس کی بدولت ہم کھل کر لطف اندوز ہو سکے۔ مقامی لوگوں کی گرمجوش مہمان نوازی نے ہمارے سفر کو واقعی یادگار بنا دیا، اور ہم ضرور دوبارہ بھدرواہ آنا چاہیں گے‘‘۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح ستیش سنگھ جھاداَو نے کہا کہ انہیں پولیس کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہوا، مناسب چیک پوسٹس قائم تھیں اور مقامی لوگوں کے دوستانہ رویے نے ان کے سفر کو مزید خوشگوار بنا دیا۔
مقامی شراکت داروں اور سیاحت کے ماہرین نے حالیہ سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے کو بروقت برف باری اور پولیس و دیگر سکیورٹی فورسز کی جانب سے فراہم کردہ مضبوط سکیورٹی نظام کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایک مقامی شہری رشید چودھری نے کہا’’پہلے ہم اس موسم میں، جب برف باری ہوتی تھی اور درجہ حرارت صفر سے کافی نیچے چلا جاتا تھا، صرف فوج کو ہی بلند علاقوں میں تعینات دیکھتے تھے۔ لیکن اس بار محدود وسائل کے باوجود جموں و کشمیر پولیس چوبیس گھنٹے سکیورٹی فراہم کر کے قابلِ ستائش کام انجام دے رہی ہے‘‘۔
گلڈنڈا کے وینڈرز ایسوسی ایشن کے صدر یاسر وانی کے مطابق، پہلی برف باری کے بعد گزشتہ۱۵دنوں کے دوران۱۹ہزار سے زائد سیاح اس مقام کا دورہ کر چکے ہیں۔
دریں اثنا، عمومی طور پر بھدرواہ کے رہائشیوں اور بالخصوص سیاحت سے وابستہ افراد نے مرکز کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت متھولا گاؤںسے۱۲۵۰۰فٹ بلند سیوج دھار تک ایک کثیر کروڑ روپے کی کیبل کار منصوبے کی تعمیر کی جائے گی، جو عظیم کیلاش کنڈ گلیشیئر کے دامن میں واقع ہے۔
سیوج دھار۳۰کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ایک بڑی اور نہایت خوبصورت چراگاہ ہے، جو ضلع ڈوڈہ کے بھدرواہ سے شروع ہو کر ضلع اودھمپور کے بسنت گڑھ علاقے تک جاتی ہے۔ یہ چراگاہ نومبر سے مئی تک سات ماہ برف سے ڈھکی رہتی ہے، جو اسے ایڈونچر اور سرمائی کھیلوں کے لیے ایک مثالی مقام بناتی ہے۔
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے ایک حالیہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پوسٹ میں کہا’’متھولا سے سیوج دھار تک کیبل کار (گنڈولا) منصوبے سے متعلق تازہ صورتحال یہ ہے کہ متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے کے بعد نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ (این ایچ ایل ایم ایل) نے ڈی پی آر کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں، جو ممکنہ طور پر جنوری کے آخر تک الاٹ کر دی جائیں گی، تاکہ اگلے چار ماہ میں مطالعہ مکمل ہو سکے اور اس کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا جا سکے‘‘۔
بھدرواہ۱۷؍اور۱۹جنوری کو گلڈنڈا اور نیو بس اسٹینڈ بھدرواہ میں منعقد ہونے والے دو روزہ ونٹر فیسٹیول کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
ڈوڈہ کے ڈپٹی کمشنر ہروِندر سنگھ نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے اس فیسٹیول کی کامیابی کے لیے، جس کا مقصد سرمائی سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینا ہے، تمام ممکنہ انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاحتی مقامات اور مذہبی مقامات پر جامع سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔










