جموں و کشمیر میں ایک خاموش مگر دور رس تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ یہ تبدیلی نہ نعروں کی محتاج ہے اور نہ وقتی سرخیوں کی—بلکہ یہ کھیل کے میدانوں، نوجوانوں کے جذبے اور بتدریج مضبوط ہوتے بنیادی ڈھانچے میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ طویل عرصے تک جس خطے کو صرف سیاسی تناظر میں دیکھا گیا، آج وہی خطہ کھیل کو شناخت، اعتماد اور مستقبل سازی کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر اپنا رہا ہے۔ حالیہ قومی و بین الاقوامی پیش رفت اس امر کی گواہ ہے کہ جموں و کشمیر اب کھیل کے نقشے پر محض شریک نہیں، بلکہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس وسیع تر منظرنامے کو اگر ایک علامت میں سمیٹا جائے تو۱۱سالہ ریسنگ پروڈیجی عاطقہ میر کی شاندار کارکردگی اس کی بھرپور مثال ہے۔ کم عمری میں عالمی سطح کے سخت مقابلوں میں نمایاں کامیابی محض ذاتی ہنر کی جیت نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستانی نوجوان—بالخصوص لڑکیاں—اگر درست مواقع، تربیت اور اعتماد پائیں تو وہ عالمی معیار پر پورا اتر سکتی ہیں۔ یہی پیغام جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے بھی ہے، جہاں کھیل اب ایک سنجیدہ راستہ بنتا جا رہا ہے، نہ کہ محض تفریح یا وقتی مصروفیت۔
جموں و کشمیر میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا تعلق صرف انفرادی کامیابیوں سے نہیں بلکہ ایک منظم قومی وژن سے ہے۔ کھیلوا انڈیا جیسے پروگراموں نے کھیل کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا ہے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔
دیو کے گھوگھلا بیچ پر منعقد ہونے والے کھیلوا انڈیا بیچ گیمز کے دوسرے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب میں جموں و کشمیر کی شرکت اسی قومی تحریک کا حصہ ہے۔ اس موقع پر جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا کا یہ کہنا کہ’کشمیر سے کنیا کماری تک نوجوان کھیلوں میں نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں‘ دراصل ایک زمینی حقیقت کی بازگشت ہے۔
جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی کھیلوں میں شمولیت کے پیچھے سب سے بنیادی عنصر کھیل کے انفراسٹرکچر میں بہتری ہے۔ گزشتہ برسوں میں اسپورٹس اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن، نئے انڈور ہالز، مصنوعی ٹرف، ایتھلیٹکس ٹریکس اور دیہی سطح پر کھیل کے میدانوں کی بحالی نے نوجوانوں کے لیے دروازے کھولے ہیں۔ سرینگر، جموں، اننت ناگ، بارہمولہ اور دیگر اضلاع میں کھیل کی سہولیات کی دستیابی نے اس تصور کو مضبوط کیا ہے کہ ٹیلنٹ کو اب دور دراز شہروں کا رخ کرنے کی مجبوری نہیں رہی۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جموں و کشمیر کے نوجوان فطری طور پر سخت محنت، جسمانی برداشت اور نظم و ضبط کے عادی ہیں۔ پہاڑی جغرافیہ اور موسمی سختیاں ان کی شخصیت کا حصہ رہی ہیں۔ جب اس فطری طاقت کو سائنسی کوچنگ، منظم تربیت اور جدید سہولیات میسر آئیں تو نتائج سامنے آنا ناگزیر تھے۔ آج خطے کے نوجوان فٹبال، کرکٹ، مارشل آرٹس، ایتھلیٹکس، ہاکی، سنو اسپورٹس اور اب اسکیئنگ جیسے شعبوں میں قومی سطح پر اپنی موجودگی درج کرا رہے ہیں۔
کھیلوا انڈیا بیچ گیمز جیسے ایونٹس کھیل کو محض مقابلے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے سماجی اور ثقافتی ہم آہنگی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پیغام میں کھیلوں کو نوجوانوں کے اختیار، قومی اتحاد اور’سافٹ پاور‘ کے اظہار سے جوڑنا اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ کھیل کے ذریعے نہ صرف اپنے نوجوانوں کو آگے بڑھائے بلکہ اپنی ثقافت، مہمان نوازی اور قدرتی حسن کو بھی قومی دھارے سے جوڑے۔
کھیلوں کا سماجی اثر بھی غیر معمولی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو دہائیوں تک کشیدگی اور غیر یقینی حالات سے گزرا ہو، وہاں کھیل نوجوانوں کو مثبت سمت فراہم کرتے ہیں۔ کھیل نظم و ضبط، ٹیم ورک، قیادت اور برداشت جیسی قدروں کو فروغ دیتے ہیں—اور یہی قدریں پُرامن اور مضبوط سماج کی بنیاد بنتی ہیں۔ کھیل ذات، مذہب اور علاقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ایک مقصد پر اکٹھا کرتے ہیں، جیسا کہ مختلف قومی مقابلوں میں دیکھا جا رہا ہے۔
خواتین کی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی شرکت اس تبدیلی کا ایک اہم اور خوش آئند پہلو ہے۔ جموں و کشمیر میں لڑکیاں اب روایتی رکاوٹوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایتھلیٹکس، تائیکوانڈو، فینسنگ، والی بال اور دیگر کھیلوں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ عاطقہ میر جیسی کامیابیاں اس سوچ کو مضبوط کرتی ہیں کہ کھیل جنس کی قید سے آزاد ہیں—شرط صرف مواقع اور حوصلہ افزائی کی ہے۔
کھیل اور سیاحت کا رشتہ بھی اب واضح ہوتا جا رہا ہے۔ بیچ گیمز ہوں یا سرمائی کھیل، یہ سرگرمیاں مقامی معیشت کو سہارا دیتی ہیں اور خطے کو عالمی سطح پر متعارف کراتی ہیں۔ اسی تناظر میں جموں و کشمیر میں سرمائی کھیلوں کو فروغ دینے کی حالیہ کوششیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی جانب سے گلمرگ، سونہ مرگ اور دودھ پتھری میں۱۴ روزہ انٹیگریٹڈ اسکی ٹریننگ کورس کا آغاز اسی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔۱۲سے۱۸برس کے۵۰۰ سے زائد طلبہ کو سرٹیفائیڈ تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ نہ صرف کھیل بلکہ سرمائی سیاحت کے لیے بھی نئی راہیں کھولتا ہے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں کھیل اب پالیسی کی سطح پر سنجیدہ ترجیح بن چکے ہیں۔ تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ کوچنگ کی کمی، دیہی و شہری سہولیات میں فرق، اور بین الاقوامی معیار کی تربیت تک محدود رسائی جیسے مسائل پر مسلسل توجہ درکار ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ان مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے حل کی سمت عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔
آخرکار، جموں و کشمیر میں کھیل ایک نئے بیانیے کو جنم دے رہے ہیں—امید کا، اعتماد کا اور خود اعتمادی کا۔ نوجوان اس بیانیے کے مرکز میں ہیں، اور بہتر ہوتا بنیادی ڈھانچہ ان کے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی، تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کھیل کے میدان سے عالمی پوڈیم تک اپنے قدموں کے نشان چھوڑتا نظر آئے گا۔ یہ محض کھیلوں کی ترقی نہیں، بلکہ ایک خطے کے روشن مستقبل کی تشکیل ہے۔





