سرینگر: جموں و کشمیر میں ایک ڈومیسٹک لیگ میچ کے دوران ایک کرکٹر کی جانب سے فلسطین کے پرچم کے استعمال پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
فرقان بھٹ نے جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں اپنے ہیلمٹ پر فلسطین کا پرچم لگایا ہوا تھا۔فرقان بھٹ کل کھیلے گئے میچ میں مقامی ٹیم جے کے۱۱کی نمائندگی کر رہے تھے، جہاں ان کا مقابلہ جموں ٹریل بلیزرز سے تھا۔ اس عمل کے سلسلے میں جموں رورل پولیس نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔
اس کے علاوہ لیگ کے منتظم زاہد بھٹ اور میچ کے لیے گراؤنڈ فراہم کرنے والے شخص سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فلسطینیوں کے لیے ریاست کے مطالبے کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔
یہ مظاہرے اسرائیل اور حماس—جو تنگ غزہ پٹی پر حکومت کرنے والا مسلح گروہ ہے—کے درمیان جنگ بندی کے کئی ماہ بعد مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
مظاہروں میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب غزہ شدید غذائی عدم تحفظ اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں۳۷؍امدادی تنظیموں پر پابندی لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
متعدد انسانی ہمدردی کی ایجنسیاں اور بین الاقوامی تنظیمیں ان اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور زور دے رہی ہیں کہ ایسی پابندیاں غزہ کی جنگ بندی کے دوران حاصل ہونے والی نازک پیش رفت کو نقصان پہنچائیں گی۔
اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی کے مطابق بھارت اسرائیل،فلسطین مسئلے میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جس کا مطلب عملی طور پر فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔










