سرینگر: ۲۰۲۵جموں و کشمیر کے لیے موسمیاتی تباہ کاریوں کے لحاظ سے ایک نہایت سنگین سال ثابت ہوا۔ خطے میں مانسون بارش، بادل پھٹنے ، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائڈنگ نے نہ صرف درجنوں انسانی جانیں نگل لیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کو بے گھر بھی کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا جب کہ کشمیر میں صورتِ حال نسبتاً بہتر رہی۔
چودہ اگست کو کشتواڑ کے چسوتی گاؤں میں مچیل ماتا یاترا روٹ پر بادل پھٹنے کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس نے پورے خطے کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اچانک آنے والی سیلابی ریلوں نے گھروں، گاڑیوں اور لوگوں کو بہا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں۶۸؍افراد ہلاک ہوئے جن میں دو سی آئی ایس ایف اہلکار بھی شامل تھے ۔تقریباً۳۰۰ ؍ افراد زخمی ہوئے جبکہ۳۸؍ افراد طویل تلاش کے باوجود اب بھی لاپتہ ہیں، جنہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے ۔
اگست کے آخر میں ریکارڈ توڑ بارشوں نے جموں شہر اور متعدد اضلاع میں تباہی مچا دی۔ ندیِ توی خطرے کے نشان سے اوپر بہنے لگی، مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ نے جموں،سری نگر قومی شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا اور کٹھوعہ، ریاسی، رام بن، ڈوڈہ اور راجوری میں بادل پھٹنے کے واقعات سامنے آئے ۔ اسی دوران ویشنودوی یاترا کے اردھکوارہ خطے میں اچانک بھاری تودہ گرنے سے۳۴یاتری ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے ، جس کے بعد یاترا کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
ریاسی کے مہور علاقے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد لقمہ اجل بنے جبکہ رام بن کے راج گڑھ میں بادل پھٹنے سے تین افراد جان سے گئے ۔
وزارتِ داخلہ کو فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال بھر میں کل۱۹۹؍افراد ہلاک‘۱۷۸زخمی اور۳۳لاپتہ ہوئے ۔ قدرتی آفات نے۱۱ہزار سے زائد مویشی ہلاک کر دیے ‘۸ ہزار۴۰۴؍مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے اور تقریباً۷۷ہزار۹۱۵؍ہیکٹر زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ بڑے پیمانے پر ہونے والے یہ نقصان ایک بار پھر جموں ڈویژن کی موسمیاتی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے ۔
ریسکیو آپریشنز میں این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فوج اور فضائیہ نے بھرپور حصہ لیا۔ حکومت نے ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے تحت متاثرین کے لیے۲۰۹کروڑ روپے جاری کیے جبکہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے۶لاکھ روپے فی کس ایکس گریشیا امداد فراہم کی گئی۔ مرکز کی بین وزارتی ٹیم نے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کر کے نقصانات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔
۲۰۲۵کے دوران حکومتِ ہند نے جموں و کشمیر میں موسمیاتی نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تکنیکی اپ گریڈیشن بھی کی۔ مشن موسم کے تحت چار نئے ڈوپلر ویدر ریڈارز کی منظوری دی گئی، جو پہلے سے نصب تین ریڈارز کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اور گھنے موسمیاتی الرٹ سسٹم قائم کریں گے ۔ یہ نیٹ ورک اچانک اور شدید موسمی واقعات جیسے بادل پھٹنے ، تیز آندھیوں اور موسلادھار بارشوں کی تحصیل سطح تک قبل از وقت وارننگ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
۲۰۲۵کے یہ موسمیاتی سانحات جموں و کشمیر کے لیے نہ صرف ایک بڑے انسانی بحران کا سبب بنے بلکہ مستقبل کے لیے ایک اہم انتباہ بھی چھوڑ گئے ہیں کہ خطے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں مزید مضبوط، جدید اور منظم ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ضرورت ہے ۔







