سرینگر: جموں و کشمیر میں سال۲۰۲۵مجموعی طور پر سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیوں اور شدت پسندانہ سرگرمیوں میں کمی کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہا ہے ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال۳۵ مختلف واقعات میں مجموعی طور پر۴۶دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی تشدد گزشتہ پچیس برس کی کم ترین سطح پر رہا۔ رواں برس کا سب سے اہم واقعہ۲۲؍ اپریل کو پیش آنے والا پہلگام حملہ تھا جس میں۶۲سیاح مارے گئے ۔ اس حملے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور اسی واقعے کے بعد بھارتی مسلح افواج نے۷مئی کو تاریخی آپریشن سندور شروع کیا، جسے جدید دور میں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا اور فیصلہ کن ردعمل قرار دیا جا رہا ہے ۔
آپریشن سندور کے دوران پاکستانی زیر قبضہ کشمیر اور پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں کے نو تربیتی کیمپوں کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جن میں سے سات مقامات پر بَرّی فوج نے جبکہ دو پر فضائیہ نے حملے کیے ۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے جن میں کئی اعلیٰ سطحی کمانڈر بھی شامل تھے ۔
فوج نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا مقصد صرف دہشت گرد ڈھانچے کو ختم کرنا تھا اور اس میں کسی فوجی یا شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان کی جانب سے اس کے بعد تین روز تک شدید شیلنگ اور متعدد ڈرون حملوں کی کوششیں کی گئیں، تاہم بھارتی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا۔۱۰مئی کو پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا جس کے بعد فائر بندی اور صورتحال کو معمول پر لانے پر اتفاق ہوا۔
دوسری جانب اس سال لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بی ایس ایف کے مطابق سال بھر میں صرف چار دراندازی کی کوششیں ہوئیں جن میں شامل تیرہ میں سے آٹھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ باقی واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے ۔ فوج کی جانب سے ایل او سی کے قریب ایک درجن سے زائد لانچ پیڈ تباہ کیے جانے کے بعد دراندازی کے راستے کمزور پڑ گئے جس سے کشمیر اور جموں کے بالائی علاقوں میں مجموعی سیکورٹی مزید بہتر ہوئی۔
اس دوران سیکیورٹی فورسز کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ادھم پور، اکھنور، بارہمولہ، کولگام، راجوری اور کشتواڑ میں مختلف کارروائیوں کے دوران کئی فوجی اہلکار شہید ہوئے ۔۱۴نومبر کو سرینگر کے مضافاتی علاقے نوگام میں پولیس اسٹیشن کے اندر ہونے والے دھماکے نے وادی کو شدید غمزدہ کر دیا جس میں نو افراد جاں بحق اور کم از کم بتیس زخمی ہوئے ۔
ڈی جی پی نالین پربھات نے بعد میں وضاحت کی کہ دھماکہ حادثاتی تھا، جبکہ حکومت نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے دس لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا۔ دسمبر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے متاثرہ خاندانوں کو سرکاری نوکریوں کے تقرر نامے بھی فراہم کیے ۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی کے لال قلعہ دھماکہ کیس کی تفتیش پر جموں و کشمیر پولیس کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے اسے عالمی معیار کی ماسٹر کلاس قرار دیا۔ انہوں نے پہلگام حملے اور دہلی دھماکے کی تفتیش کو دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے قابلِ مطالعہ مثالیں بتایا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی جموں و کشمیر پولیس کو پورے ملک میں دہشت گردانہ واقعات کو ناکام بنانے اور ایک ہمہ گیر وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک بے نقاب کرنے پر سراہا۔
سال بھر میں سکیورٹی فورسز نے پہلگام حملے کے اصل منصوبہ سازوں سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ، حمزہ افغانی اور زبران کو ایک کامیاب کارروائی کے دوران مار گرایا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی اس سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی جس کے بعد جنوبی کشمیر اور بالائی جنگلاتی علاقوں میں شدت پسندی مزید کم ہوتی گئی۔
مجموعی طور پر۲۰۲۵جموں و کشمیر میں امن و استحکام کے لیے مثبت تبدیلیوں کا سال رہا۔ سکیورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں، بہتر انٹیلی جنس نیٹ ورک، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بین ایجنسی رابطوں میں اضافے کے نتیجے میں خطے میں امن کی فضا مضبوط ہوئی ہے ۔ حکام کے مطابق آنے والے سال میں بھی اسی رفتار سے کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ وادی اور جموں خطے میں دیرپا امن قائم رکھا جا سکے ۔






