سرینگر/۲۳ دسمبر
جموں کشمیر میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے منگل کے روز امریکہ میں مقیم کشمیری لابیسٹ اور پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سزا یافتہ ایجنٹ غلام نبی فائی کی ملکیتی اراضی کو فوری طور پر ضبط کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔
ضلع بڈگام کے این آئی اے کے خصوصی جج یحییٰ فردوس نے دو دیہات‘وڈون اور چھتہ بگ‘میں واقع مجموعی طور پر ڈیڑھ کنال (تقریباً۸۱۰۰ مربع فٹ) سے زائد اراضی ضبط کرنے کی اجازت دی۔
عدالت نے بڈگام کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ ریونیو اور پولیس حکام کی مدد سے مذکورہ جائیداد پر ’فوری طور پر‘ قبضہ حاصل کریں۔
عدالت کا یہ فیصلہ اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر محمد اقبال رَاتھر کی جانب سے فوجداری ضابطٔ اخلاق کی دفعہ۸۳ (اب بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ ۸۵) کے تحت دائر درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔
اصل میں ضلع بڈگام کا رہائشی غلام نبی فائی، رواں سال اپریل میں عدالت کی جانب سے’مفرورِ اشتہاری‘ قرار دیا گیا تھا، کیونکہ وہ پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے دیے گئے ۳۰ روزہ نوٹس پر عمل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ۲۰۲۰ میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج کیا گیا تھا۔
فائی، جو کالعدم جماعتِ اسلامی کا معروف حامی ہے اور نامزد دہشت گرد اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کا قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے، پر ملک میں ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
سات صفحات پر مشتمل حکم نامے میں جج نے کہا’’یہ عدالت ریکارڈ سے مطمئن ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر خود کو چھپایا ہے‘‘۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ جائیداد کی ضبطی فوری نوعیت کی ہے کیونکہ فائی کے رشتہ دار، جو اس وقت زمین کے قبضے میں ہیں، اسے فروخت کر سکتے ہیں، جس سے قانونی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔
عدالت نے حکم دیا’’ یہ عدالت بڈگام کے کلکٹر کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ گاؤں وڈون میں واقع کھیوت نمبر۶۰، سروے نمبر ۶۴۴ کے تحت ایک کنال دو مرلے اراضی اور گاؤں چھتہ بگ میں واقع کھیوت نمبر ۱۳۶، سروے نمبر ۳۴۳ کے تحت ۱۱ مرلے اراضی (جو غلام نبی فائی کی ملکیت ہے) کو ضبط کرے اور فوری طور پر قبضہ حاصل کرے‘‘۔
بڈگام کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریونیو حکام کے ذریعے جائیداد کی نشاندہی اور حد بندی مکمل کریں، جبکہ اس کارروائی کے دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ضروری سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
۷۶ سالہ غلام نبی فائی کو بھارت اور امریکہ، دونوں میں طویل عرصے سے قانونی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وہ واشنگٹن میں قائم کشمیری امریکن کونسل (کے اے سی) کے ڈائریکٹر کے طور پر نمایاں ہوا، جسے وہ کشمیر کے عوام پر مبینہ ’ظلم و جبر‘ کو اجاگر کرنے والی ایک آزاد عوامی تنظیم قرار دیتا تھا۔
۲۰۱۱ میں ایف بی آئی نے اسے گرفتار کیا، جب تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کے اے سی دراصل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ایک ’فرنٹ‘ تھی۔ امریکی حکام نے ثابت کیا کہ فائی نے ۲۰ سال سے زائد عرصے تک آئی ایس آئی سے کم از کم ۳۵ لاکھ امریکی ڈالر امریکہ منتقل کیے تاکہ کشمیر سے متعلق امریکی پالیسی کو متاثر کیا جا سکے۔
۲۰۱۲ میں ورجینیا کی ایک وفاقی عدالت نے سازش اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں فائی کو دو سال قید کی سزا سنائی۔ اس وقت امریکی اٹارنی نیل میک برائیڈ نے کہا تھا کہ فائی نے ’محکمہ انصاف، آئی آر ایس اور کئی سیاسی رہنماؤں سے جھوٹ بولا‘ اور آئی ایس آئی کا پروپیگنڈا پھیلایا۔ رہائی کے بعد اسے تین سال تک نگرانی میں رکھا گیا تھا۔
امریکہ میں مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ فائی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، جسے وہ دہائیوں تک سیاسی حلقوں میں اپنی ساکھ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہا۔
فائی کے پاس کوئی ڈاکٹریٹ ڈگری نہیں ہے’’امریکی اٹارنی میک برائیڈ نے ۲۰۱۱ میں عدالت کو بتایا، اور کہا کہ اس غلط نمائندگی سے حقیقی اسکالرز کی محنت سے حاصل کردہ عزت کو نقصان پہنچا۔ویب ڈیسک










