سرینگر/۲۲دسمبر
چیف آف ڈیفنس اسٹاف(سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ ہندوستان کو دہشت گردی کو روکنے کیلئے قلیل المدتی ، اعلی شدت کے تنازعات ، آپریشن سندور اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ علاقائی تنازعات کی وجہ سے طویل المدتی تنازعات سے لڑنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی میں خطاب کرتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ ملٹی ڈومین آپریشنز اب ایک آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں، جہاں ایک ڈومین کے اثرات فوری طور پر دوسرے ڈومین پر مرتب ہوں گے۔
جنرل چوہان نے کہا’’بھارت کو کن نوعیت کے خطرات اور چیلنجز کے لیے تیار رہنا چاہیے؟ اس کا انحصار دو حقائق پر ہونا چاہیے۔ ہمارے دونوں مخالفین…ایک ایٹمی ہتھیاروں کی حامل ریاست ہے اور دوسرا ایٹمی اسلحہ سے لیس ریاست…لہٰذا ہمیں اس سطح کے ڈیٹرنس کو ٹوٹنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے‘‘۔
سی ڈی ایس نے پاکستان یا چین کا نام لیے بغیر کہا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے دونوں ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی تنازعات موجود ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’ہمیں دہشت گردی کو روکنے کے لیے قلیل مدت، انتہائی شدت والے تنازعات لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جیسے آپریشن سندور۔ ہمیں زمینی نوعیت کی طویل مدتی جنگ کیلئے بھی تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہمارے زمینی تنازعات ہیں۔ تاہم، ہمیں ایسی جنگ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔
ملک کے اعلیٰ ترین فوجی افسر نے کہا کہ نئی ڈومینز سے فائدہ اٹھانے اور کمزور حریف کے خلاف عدم توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ یہ عدم توازن دیگر ممالک کے ہاتھوں ہمارے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔
جنرل چوہان نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور گرے زون وارفیئر ایک مستقل خطرہ بنی رہے گی، جس کے لیے دفاعی کے ساتھ ساتھ جارحانہ ردِعمل بھی ضروری ہوگا۔
سی ڈی ایس نے جدید جنگ کو فوجی امور میں تیسرے انقلاب کے دہانے پر قرار دیا، جسے انہوں نے ’کنورجنس وارفیئر‘ کا نام دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ متعدد ٹیکنالوجیز بیک وقت جنگ کی نوعیت اور کردار کو متاثر کر رہی ہیں۔
جنرل چوہان نے کہا کہ پہلے چند ٹیکنالوجیز یہ طے کرتی تھیں کہ جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں، لیکن اب متعدد ٹیکنالوجیز اس عمل کو متاثر کر رہی ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کوانٹم، ایج کمپیوٹنگ، ہائپرسونک، جدید مواد اور روبوٹکس شامل ہیں۔
سی ڈی ایس نے کہا کہ ملٹی ڈومین آپریشنز اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہیں، جہاں ایک ڈومین کے اثرات فوری طور پر دوسرے ڈومین میں محسوس کیے جائیں گے۔
جنرل چوہان نے کہا’’یہ بات آپریشن سندور میں واضح طور پر نظر آئی۔ تقریباً چار دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں، جس میں بھارت کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی، جنگ کے تمام ڈومینز کو بیک وقت اور انتہائی تیزی کے ساتھ استعمال کیا گیا‘‘۔
سی ڈی ایس نے کہا کہ ملٹی ڈومین آپریشنز کے لیے ملٹی ڈومین صلاحیتوں اور کراس ڈومین کمانڈ اینڈ کنٹرول کی بھی ضرورت ہوگی۔
اس کے لیے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان وسیع پیمانے پر تال میل اور کنٹرول درکار ہوگا، ساتھ ہی سائبر فورسز، خلائی فورسز اور علمی (کگنیٹو) ڈومین میں کام کرنے والی فورسز کے ساتھ بھی مربوط کارروائی ضروری ہوگی۔
بھارت نے۷ مئی کو پہلگام میں۲۲؍ اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں ۲۶؍افراد ہلاک ہوئے تھے، کا بدلہ لینے کے لیے آپریشن سندور کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کے دوران بھارت نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اور پاکستان میں واقع دہشت گرد انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔ دونوں ممالک نے ۱۰مئی کو جنگ بندی پر اتفاق کیا۔










