سرینگر/۲۳ دسمبر
اروناچل پردیش میں مبینہ جاسوسی نیٹ ورک کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایٹانگر پولیس نے جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو پاکستان میں موجود ہینڈلرز کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس (لاء اینڈ آرڈر) چکھو آپا نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں ۱۸ دسمبر کو عمل میں آئیں، جس کے بعد ملزمان کو تفصیلی تفتیش کے لیے اروناچل پردیش منتقل کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد، جن کی شناخت اعجاز احمد بھٹ اور بشیر احمد گنائی کے طور پر ہوئی ہے، اروناچل پردیش کے مختلف مقامات سے حساس معلومات اکٹھا کر رہے تھے اور انہیں سرحد پار موجود رابطوں تک پہنچا رہے تھے۔ اروناچل پردیش ایک اسٹریٹجک طور پر اہم سرحدی ریاست ہے۔ قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر حکام نے معلومات کی نوعیت یا مخصوص مقامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔
آئی جی پی نے کہا’’ہم فرانزک رپورٹ کے منتظر ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ملک کے باہر موجود ہینڈلرز کو حساس معلومات فراہم کر رہے تھے۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات تفتیش کے دوران سامنے لائی جائیں گی‘‘۔
اس سے قبل ۲۱ نومبر کو پولیس نے کپواڑہ ضلع کے رہائشی نذیر احمد ملک اور صابر احمد میر کو ان کے مبینہ طور پر جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق قابلِ اعتماد اطلاعات موصول ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک اور ملزم شبیر احمد خان، جو کپواڑہ سے ہی تعلق رکھتا ہے، کو اٹانگر سے گرفتار کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، مزید گرفتاریوں کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس معاملے نے سنگین سکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی پولیس، مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور خطے میں تعینات دیگر سکیورٹی فورسز کے درمیان قریبی تال میل قائم کیا گیا ہے۔ندائے مشرق ویب ڈیسک










