نئی دہلی، 19 دسمبر (یواین آئی) لوک سبھا کی کارروائی جمعہ کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس یکم دسمبر کو شروع ہوا اور اس دوران لوک سبھا کی 15 نشستیں ہوئیں۔
آج جیسے ہی ایوان شروع ہوا، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اراکین کو مطلع کیا کہ اب ہم 18ویں لوک سبھا کے چھٹے اجلاس کے اختتام کے قریب ہیں۔ اس سیشن میں ہم نے 15 نشستیں کیں۔ آپ کے تعاون سے ایوان کی پیداواری صلاحیت تقریباً 111 فیصد رہی۔ میں اس کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایوان کو رات گئے تک چلانے میں تعاون کرنے پر تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
اس دوران راجیہ سبھا کے 269ویں اجلاس کی کارروائی جمعہ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کی موجودگی میں ارکان پارلیمنٹ ایوان میں جمع ہوئے ۔ اس کے فوراً بعد قانون سازی سے متعلق ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے گئے ۔ مسٹر کرشنن نے مطلع کیا کہ ہم 269ویں اجلاس کی اختتامی نشست تک پہنچ گئے ہیں۔
کارروائی ملتوی کرنے سے پہلے اپنے تبصرے میں انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس کافی بامقصد رہا اور اراکین نے ضروری قانون سازی کے کام مکمل کرانے میں بھرپور تعاون دیا۔
انہوں نے پہلی بار ایوان کی کارروائی کے انعقاد میں تعاون کرنے پر تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ راجیہ سبھا کا 269واں اجلاس کامیابیوں سے پر رہا۔ اس دوران وقفہ صفر میں روزانہ اوسطاً 15 موضوعات اٹھائے گئے اور خصوصی ذکر کے تحت 87 موضوعات پیش کیے گئے ۔ ایوان نے تاریخی اور اہم موضوعات و بلوں پر سنجیدہ اور مؤثر بحث کی۔
چیئرمین نے بتایا کہ ایوان میں تاریخی وندے ماترم پر ہوئی بحث میں 82 اراکین نے حصہ لیا، جبکہ انتخابی اصلاحات پر ہوئی بحث میں 57 اراکین نے اپنی رائے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان نے آٹھ اہم بل منظور کر کے لوک سبھا کو واپس بھیجے ۔ اس کے علاوہ ایوان میں 59 نجی بل پیش کیے گئے ۔ مجموعی طور پر ایوان میں 92 گھنٹے بحث ہوئی اور ایوان کا کام کاج 121 فیصد رہا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ اراکین نے جمعرات کی رات ایوان میں نامناسب رویہ اختیار کیا اور کاغذات پھاڑ کر پھینکنے کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے اراکین خود احتسابی کریں گے اور آئندہ ایوان میں اس طرح کا رویہ دہرایا نہیں جائے گا۔
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس یکم دسمبر کو شروع ہوا تھا، جس کے دوران مجموعی طور پر 15 نشستیں ہوئیں۔
آخر میں انہوں نے آنے والے تہواروں کی مبارکباد دی۔










