جمعہ, جولائی 24, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

خشک سالی کا طویل ہوتا دورانیہ

آنے والے مسائل کی طرف واضح اشارہ کررہا ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-12-18
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

جموں کشمیر اس وقت بارش کی شدید کمی سے گزر رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں معمول سے ۸۵ فیصد سے زیادہ کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں آبی ذخائر، چشمے اور ندی نالے غیر معمولی دباؤ میں آ گئے ہیں۔ نومبر کے آغاز سے بیشتر اضلاع میں قابلِ ذکر بارش نہ ہونے کے باعث پانی کی دستیابی ایک سنجیدہ تشویش بن چکی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پینے کے پانی کا انحصار قدرتی چشموں پر ہے۔
یہ کوئی اچانک آ پڑنے والی آفت نہیں، بلکہ ایک خاموش بحران ہے جو برسوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے پنپتا رہا، اور اب اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں بارش کی شدید قلت محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس دھرتی کے رگ و پے میں دوڑتے پانی کے سوکھنے کی کہانی ہے۔
کشمیر کو ہمیشہ ’آب و ہوا کی جنت‘ کہا گیا۔ یہاں کی پہاڑیاں، چشمے، ندی نالے اور جھیلیں صرف قدرتی حسن کا حصہ نہیں تھے، بلکہ ایک مکمل تہذیب کی بنیاد تھے۔ گاؤں کی بستی ہو یا کھیتوں کی فصل، عبادت گاہ ہو یا صحن میں بہتا چشمہ ‘ پانی زندگی کا مرکز رہا ہے۔ مگر آج یہی کشمیر پیاس کے سائے میں کھڑا ہے، اور یہ پیاس صرف نلکوں کی نہیں، مستقبل کی بھی ہے۔
نومبر کے آغاز سے اب تک وادی کے بیشتر اضلاع میں یا تو بارش ہوئی ہی نہیں، یا اتنی معمولی کہ اس کا شمار مشکل ہے۔ حالانکہ اس عرصے میں اوسطاً ۴۳ ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ یہ خشک وقفہ محض ایک موسم کی خرابی نہیں، بلکہ اس بڑے موسمیاتی تغیر کا حصہ ہے جو ہمالیائی خطے کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے تھے کہ مغربی ہوائیں، جو کشمیر کو سردیوں میں برف اور بارش عطا کرتی تھیں، کمزور پڑ رہی ہیں۔ آج وہ خدشات حقیقت بنتے نظر آ رہے ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے دردناک پہلو چشموں کا سوکھ جانا ہے۔ جنوبی کشمیر کے آری پل، بلبْل، اچھ بل جیسے چشمے ‘ جو صدیوں سے بہتے آئے تھے ‘اب یا تو مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں یا ان کا پانی خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔ یہ محض قدرتی وسائل کا نقصان نہیں، بلکہ ان بستیوں کے لیے زندگی کا سوال ہے جو انہی چشموں پر انحصار کرتی تھیں۔ کئی دیہات میں خواتین کو پانی کے لیے میلوں چلنا پڑ رہا ہے، وہی منظر جو ہم کسی دور دراز صحرا سے جوڑتے تھے، اب کشمیر کیلئے اجنبی نہیں رہا۔
ماہرینِ ارضیات کی رائے واضح ہے:مسئلہ صرف بارش کی کمی نہیں، بلکہ بارش اور برفباری کے انداز میں بنیادی تبدیلی ہے۔ پہلے پہاڑوں پر جمنے والی برف ایک قدرتی ذخیرہ ہوتی تھی۔ موسمِ بہار میں اس کا پگھلنا زیرِ زمین پانی کو بھر دیتا تھا، چشمے رواں رہتے تھے، اور ندی نالے زندگی سے بھرے رہتے تھے۔ اب برف کی جگہ بارش لے رہی ہے، اور وہ بارش زمین میں جذب ہونے کے بجائے بہہ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ زیرِ زمین پانی کی سطح گرتی جا رہی ہے، اور چشمے ‘جو اسی پانی کے قدرتی دہانے ہیں ‘ ایک ایک کر کے دم توڑ رہے ہیں۔
یہ بحران آج کا نہیں۔ تحقیق اور سرکاری رپورٹس بتاتی ہیں کہ کشمیر ہمالیہ کے پچاس فیصد سے زائد چشمے گزشتہ تین چار دہائیوں میں یا تو خشک ہو چکے ہیں یا شدید کمزوری کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی فائل میں دبے ہوئے نہیں، بلکہ ہمارے آس پاس کی حقیقت ہیں۔ وہ چشمہ جہاں کبھی بچوں نے کھیلتے ہوئے پانی پیا تھا، وہ نالہ جس کے کنارے فصلیں لہلہاتی تھیں ‘ اب صرف یادوں میں باقی ہیں۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اس تبدیلی کو سنجیدگی سے لینے میں تاخیر کی۔ ترقی کے نام پر قدرتی ریچارج علاقوں کو نقصان پہنچایا گیا، جنگلات کم ہوئے، زمین کا استعمال بے ہنگم انداز میں بدلتا رہا، اور چشموں کی حفاظت کو کبھی پالیسی کی سطح پر ترجیح نہیں ملی۔ جب پانی بہتا تھا، ہم نے اسے ہمیشہ کے لیے موجود سمجھ لیا۔ آج جب وہ رکنے لگا ہے تو گھبراہٹ نے جگہ لے لی ہے۔
حکومتی سطح پر یہ کہا جا رہا ہے کہ فی الحال پانی کی فراہمی میں کوئی بڑا بحران نہیں، ٹریٹمنٹ پلانٹس کام کر رہے ہیں، ٹینکرز تعینات ہیں، اور ہنگامی انتظامات موجود ہیں۔ یہ اقدامات اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دیرپا حل ہیں؟ ٹینکر عارضی سہارا ہو سکتا ہے، متبادل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں کشمیر کے قدرتی آبی ذخائر کو کیسے بچایا جائے۔
یہ اداریہ الزام تراشی کے لیے نہیں، خود احتسابی کے لیے ہے۔ پانی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ ایک اجتماعی امانت ہے۔ چشموں کے اطراف تعمیرات، کوڑا کرکٹ، اور بے دریغ استعمال نے اس بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے پانی کو ایک لامحدود نعمت سمجھ کر استعمال کیا تو کل شاید نلکوں سے صرف خاموشی ٹپکے گی۔
کشمیر کی تہذیب نے ہمیشہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں جینا سکھایا ہے۔ آج اسی حکمت کو نئے انداز میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چشموں کی بحالی، بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے کے منصوبے، جنگلات کا تحفظ، اور عوامی شعور‘ یہ سب کسی ایک محکمے کا نہیں، پوری سماج کا کام ہے۔
پانی کا بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں، یہ سماجی انصاف، معاشی استحکام اور انسانی وقار کا سوال ہے۔ اگر آج ہم نے اس پر کان نہ دھرے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ کشمیر کی پہچان اس کے پانی سے ہے۔ اگر یہ بہاؤ رْک گیا، تو صرف ندی نالے نہیں سوکھیں گے، ایک پوری تہذیب پیاسی رہ جائے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سانبہ کے منسار علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع

Next Post

اگر سرحدیں نہ ہوتیں !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

اگر سرحدیں نہ ہوتیں !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.