وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو سیاحت کے شعبے میں بیرونی مالی اعانت سے چلنے والے ایک منصوبے کے تحت تقریباً ۵ء۵؍ ارب روپے کی سرمایہ کاری ملنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت اجتماعی کوششوں کے ساتھ مل کر اس بات میں مدد دے گی کہ یونین ٹیریٹری ایک بار پھر بھارت کے سرکردہ ایڈونچر ٹورزم مقام کے طور پر اپنی شناخت بحال کرے۔
ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے ٹی او اے آئی) کے ۱۷ویں سالانہ کنونشن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اگر ان وسائل کو پیشہ ورانہ تجربے اور مربوط کاوشوں کے ساتھ صحیح انداز میں یکجا کیا جائے تو ایڈونچر ٹورزم میں اپنی سابقہ حیثیت بحال کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اس بات کی پہلے بھی نشاندہی کر چکے ہیں کہ سیاحت کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ سیاح ایک بار کشمیر آئیں، بلکہ حقیقی کامیابی تب ہوگی جب سیاح بار بار، سال بہ سال واپس آنے کیلئے خود کو ترغیب یافتہ محسوس کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اور سیاحتی شعبے کا نقط نظر ہمیشہ سیاحوں کے ساتھ طویل مدتی وابستگی پر مرکوز ہونا چاہیے۔ان کاکہنا تھا’’ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سیاح کہیں کہ وہ کہیں اور نہیں جائیں گے اور اپنی چھٹیاں منانے کے لیے صرف کشمیر ہی آئیں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا ہدف اسی صورت حاصل کیا جا سکتا ہے جب تمام متعلقہ فریق مل کر کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر حکومت، محکمہ سیاحت اور تمام متعلقہ اداروں کو سیاحت کے شعبے کو مضبوط بنانے اور سیاحوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانے کیلئے باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
سال رواں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ سال جموں و کشمیر کے لیے انتہائی مشکل رہا، جہاں تقریباً ہر مہینے مختلف مقامات سے پسپا کن اور تشویشناک واقعات سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس خطے کو ایک کے بعد ایک مختلف سمتوں سے ضربیں لگ رہی ہوں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ سردیوں کے دوران کچھ راحت کی امید بھی پوری طرح پوری نہ ہو سکی کیونکہ موسم زیادہ تر خشک رہا، جس کا منفی اثر سیاحت اور اس پر انحصار کرنے والے لوگوں کی روزی روٹی پر پڑا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ موسم سرما کی سیاحت کی بحالی کے لیے برف باری کی دعا کریں، تاہم اس بات پر زور دیا کہ برف باری قابل برداشت حد میں ہونی چاہیے۔
ماضی کے موسمی حالات کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پہلے بارش کے لیے دعائیں کی گئیں تو حد سے زیادہ بارش نے ایسے مسائل پیدا کیے جو قابلِ انتظام نہیں تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بار بھی برف باری کے لیے دعا کی جائے گی، لیکن صرف اتنی ہی مقدار میں جتنی ضروری ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالائی علاقوں میں تقریباً پانچ سے چھ فٹ برف باری سیاحوں کو متوجہ کرنے اور سیاحت کے شعبے میں جان ڈالنے کے لیے کافی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاح واپس آئیں گے، آمدنی میں اضافہ ہوگا اور جموں و کشمیر میں مجموعی فضا ایک بار پھر خوشگوار ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ وہ دن زیادہ دور نہیں اور اس وقت تک حکومت کی کوششیں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ گل مرگ اور دیگر سیاحتی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سیاحتی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر ۱۷ سے۲۰ دسمبر تک اے ٹی او اے آئی کنونشن کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب کامیاب رہے گی اور مقامی برادریوں، ٹور آپریٹرز اور مجموعی طور پر سیاحتی صنعت سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
آخر میں انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کنونشن جموں و کشمیر بھر میں سیاحت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا اور خطے کو بطور مقام منتخب کرنے پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔










