نئی دہلی، 2 دسمبر (یو این آئی) کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صدر ولادیمیرپوتن کے 4 اور 5 دسمبر کے دورئہ ہند سے قبل کہا ہے کہ روس اپنے اس اہم دورے کا بے تابی سے منتظر ہے ۔ اسپوتنک نیوز ایجنسی کے زیرِ اہتمام نئی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پیسکوف نے ہندوستان اورہندوستانی عوام کو "روس کا عظیم دوست” قرار دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی تاریخی گہرائی پر زور دیا۔
ایک میڈیا بریفنگ میں پیسکوف نے کہا کہ ماسکو ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کے حوالے سے ‘بہت حساس’ ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کی شراکت داری آزاد، دیرینہ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہے ۔ انہوں نے کہا، ہماری شراکت داری محض دستاویزات نہیں بلکہ تاریخی پس منظر اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے ۔ ہندوستان اور روس تاریخ کے اہم موڑ پر ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
امریکی ٹیرف سے متعلق سوال پر پیسکوف نے کہا کہ روس کسی تیسرے ملک کی مداخلت کو پسند نہیں کرتا اور یہ معاملہ صدر پیوٹن کے دورے کے دوران ہندوستان کے ساتھ زیرِ بحث آئے گا۔
دوطرفہ تجارت میں عدم توازن کے حوالے سے انہوں نے اعتراف کیا کہ روس، ہندوستان سے خریداری کے مقابلے میں کہیں زیادہ برآمدات کر رہا ہے ۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درآمد کنندگان جلد ملاقات کریں گے تاکہ خدمات، سرمایہ کاری اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھاتے ہوئے ہندوستان کی برآمدات میں اضافے کا راستہ نکالا جا سکے ۔
توانائی اور ادائیگیوں پر پابندیوں کے اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں پیسکوف نے کہا کہ روس نے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر لچک اور متبادل نظام تیار کر لیے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ ہندوستان کو پانچویں جنریشن کے سخوئی 57 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا معاملہ صدر پوتن کے ہندوستان دورے کے دوران ایجنڈے میں شامل ہوگا، جس کی اطلاع اسپوتنک نے دی ہے ۔
واضح رہے کہ روس طویل عرصے سے ہندوستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے ، اور دونوں ممالک کے تعلقات ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ 2000 میں صدر پوتن کے دورے کے دوران اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کے قیام سے لے کر 2010 میں اسے خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ تک بڑھایا جا چکا ہے ، جس کے بعد سے سیاسی، دفاعی، اقتصادی، سائنسی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات مزید وسیع ہوئے ہیں۔










