سرینگر/۲۹ نومبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ ’لیفٹیننٹ گورنر کے پیچھے نہ چھپیں‘، اور کہا کہ انہیں ’سوال اٹھانے‘ کے بجائے کام کرنا چاہیے۔
پی ڈی پی کے ترجمان محبوب بیگ نے یہاں ایک پارٹی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے کہا’’منتخب حکومت کو لیفٹیننٹ گورنر کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے۔ منتخب حکومت جوابدہ ہوتی ہے۔ منتخب حکومت سوال نہیں اٹھاتی۔ انہیں کارروائی کرنی چاہیے‘‘۔
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے کشمیر اور جموں میں حالیہ انہدامی کارروائیوں پر سوال اٹھانے کے بارے میں پوچھے جانے پر پی ڈی پی لیڈر نے کہا’’ہمارے منتخب وزیرِ اعلیٰ ایک اپوزیشن لیڈر کی طرح بات کر رہے ہیں، جیسے محبوبہ مفتی۔ ان کے پاس مینڈیٹ ہے، انہیں کارروائی کرنی چاہیے۔ انہیں کشمیریوں کو بے گھر کرنا بند کرنا ہوگا۔ انہیں معیشت کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہیں سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے‘‘۔
بیگ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت کو بے بسی ظاہر کرنے کیلئے مینڈیٹ نہیں دیا، بلکہ فوری کارروائی کیلئے دیا تھا۔
پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ نے طنزکیا’’کیا لاکھوں لوگوں نے انہیں اس لیے ووٹ دیا کہ وہ بے بس اور کمزور نظر آئیں، یا کہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے؟ اگر ان کے پاس اختیار نہیں ہے، تو وزیرِ اعلیٰ مجھے بتائیں کہ وہ وہاں کیوں ہیں‘‘۔
بیگ نے کہا’’اگر ان کے پاس اختیار نہیں ہے، اگر وہ ان لوگوں کو نہیں بچا سکتے جو منجمد کرتے ہوئے درجہ ٔ حرارت میں بے گھر کیے جا رہے ہیں، تو پھر وہ وہاں کیا کر رہے ہیں؟‘‘انہوں نے این سی کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا۔
پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ پی ڈی پی کے ایم ایل ایز نے حالیہ اسمبلی اجلاس میں لوگوں کو اراضی کے حقوق دینے کے لیے ایک بل پیش کیا تھا، لیکن وزیرِ اعلیٰ نے اسے لینڈ گریبرز کے لیے ایک بل قرار دیا۔
ان کاکہنا تھا’’اس نے بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی کی ہے، اور وہ اب گھروں کو گرا رہے ہیں۔ شاید کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار لوگ منجمد کرتی سردیوں میں بے گھر کیے جا رہے ہیں۔‘‘
پی ڈی پی نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اپنائیں، لوگوں کی مشکلات کم کریں اور اختیار نہ ہونے کے بیانیے کے بجائے عملی اقدامات سامنے لائیں۔ندائے مشرق خبر










