پاکستان کی سیاست کا سب سے تلخ سچ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان انہی ہاتھوں سے پہنچا ہے جنہوں نے اس کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا۔ سیاسی جماعتیں ہر دور میں اصولوں، آئین اور پارلیمان کی بالادستی کے بڑے بڑے دعوے کرتی رہی ہیں، مگر اقتدار کی دوڑ نے ہمیشہ ان دعووں سے زیادہ طاقت حاصل کی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ یہ نہیں کہ ریاستی ادارے سیاست میں مداخلت کرتے رہے، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ خود سیاسی قیادت نے اپنے وقتی مفادات کے لیے بارہا اس مداخلت کو خوشی خوشی قبول بھی کیا اور اس کی سرپرستی بھی کی۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے جمہوریت کے پورے ڈھانچے کو کمزور کیا، اداروں کو آپس میں لڑایا اور آئینی اقدار کو مسلسل پامال کیا۔
یہ المیہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں، مگر موجودہ دور میں جس طرح سے مسلم لیگ ن نے اپنا تاریخی بیانیہ پلک جھپکتے بدل دیا، اس نے سیاسی اخلاقیات کے زوال کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ یہی جماعت چند سال پہلے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا کر عوام کے سامنے کھڑی تھی، اس بیانیے نے نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط موقف دیا بلکہ اسے ایک اصولی سیاست کا تاثر بھی ملا۔ اس وقت مسلم لیگ ن خود کو اس قوت کے طور پر پیش کر رہی تھی جو فوج کی سیاسی مہم جوئی، عمران خان کی سرپرستی اور انتخابی انجینئرنگ کے خلاف کھڑی تھی۔ لیکن اقتدار کی دہلیز پر پہنچتے ہی وہی جماعت آج ایک ایسے طاقتور فوجی جنرل پر ایسی مہربانی دکھا رہی ہے کہ پوری فوج کے اندر بھی تقسیم کے سائے گہرے دکھائی دینے لگے ہیں۔
۱۳ نومبر کو ہونے والی ۲۷ویں آئینی ترمیم نے نہ صرف عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ کیا ہے بلکہ ریاستی اختیارات کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ فوجی قیادت کا اثر پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جلد بازی میں کی گئی یہ ترمیمات عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور سیاسی مداخلت کے خطرات میں خطرناک اضافہ کرتی ہیں۔ ایک ایسا فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ قائم کرنا جو آئینی معاملات میں سپریم کورٹ کی پوری طاقت کو ختم کر دے، ججوں کے تقرر اور ترقی کے نظام کو انتظامیہ کے زیرِ اثر لانا، اور صدر و اعلیٰ فوجی عہدیداروں کو عمر بھر کے لیے استثنیٰ دینا … یہ سب وہ اقدامات ہیں جو کسی بھی ملک میں جمہوریت کی بنیادیں ہلا دینے کے لیے کافی ہوتے۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوا کیسے؟ اور کیوں ہوا؟ اس کا جواب وہی ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے:سیاسی جماعتوں نے اپنا فائدہ اصولوں پر ترجیح دی۔ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ’ووٹ کو عزت دو‘اس لیے نہیں بدلا کہ اسے آئینی اصولوں سے کوئی اختلاف ہو گیا تھا، بلکہ اس لیے بدلا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں طاقت کے توازن کا مرکز کوئی اور ہو چکا تھا۔ پارٹی کی قیادت نے جان لیا کہ عاصم منیر کی حمایت کے بغیر اقتدار کا یہ نازک کھیل نہیں چل سکے گا، چنانچہ اس کی سیاسی بقا کے لیے پوری پارلیمان کو استعمال کرنا اور ایسے آئینی قدم اٹھانا ضروری قرار پایا جو جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مہربانی صرف سیاسی ضرورت نہیں تھی بلکہ فوج کے اندر موجود اْس حصے کو بھی تقویت دینے کی کوشش تھی جو عاصم منیر کے مخالف سمجھا جاتا ہے۔۲۷ویں ترمیم کے باعث کئی سینئر افسران کی ترقی کی راہیں محدود ہوئیں، جس کے باعث فوج کے اندر ایک بے چینی اور تقسیم نے جنم لیا۔ ایک پیشہ ور ادارے میں ایسی دراڑیں پڑنا ریاست کے لیے کسی بھی سیاسی تنازع سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، مگر سیاست دانوں نے اپنی بقا کی خاطر اس خطرے کو بھی نظر انداز کر دیا۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی نے درست کہا کہ ’’سیاست دانوں نے ہی منیر کو طاقتور ترین شخص بنا دیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق، سیاسی قیادت نے اپنی قلیل مدتی سیاسی فائدے کیلئے پاکستان کے طویل مدتی مفادات کو قربان کر دیا ہے۔ یہ بات صرف کسی تجزیہ کار کی رائے نہیں بلکہ پاکستان کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ آج جو سیاسی جماعتیں ایک جنرل کو بچانے اور دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے آئین تک بدل ڈالتی ہیں، یہی جماعتیں کل دوسرے حالات میں اسی جنرل کو اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔
شجاع نواز نے یہ کہہ کر موجودہ صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے کہ سیاست دانوں نے یہ سب کچھ ’’اپنی انشورنس پالیسی کی تجدید‘‘ کے طور پر کیا ہے۔ چونکہ عاصم منیر کی مدتِ ملازمت اْن کی سیاسی مدت سے زیادہ ہے، اس لیے وہ ان کی سرپرستی چاہتے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں کسی ممکنہ بحران سے بچ سکیں۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں اصول یا نظریات نہیں، صرف مفادات کی سیاست چلتی ہے۔ اور جب سیاست میں اصول نہیں رہتے تو جمہوریت محض ایک نعرہ، ایک جلسے کی تقریر، یا اقتدار کے لیے استعمال ہونے والا ایک جذباتی حربہ بن جاتی ہے۔
اسی مفاداتی سیاست کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں آج بھی جمہوریت ایک کمزور، غیر محفوظ اور مسلسل دباؤ میں رہنے والا نظام ہے۔ سیاسی جماعتوں نے کبھی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی؛ بلکہ ہمیشہ اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ کبھی عدلیہ پر حملے کیے گئے، کبھی میڈیا کو استعمال کیا گیا، کبھی فوج کی مداخلت کو قبول کیا گیا، اور کبھی اسی مداخلت کے خلاف نعروں کی سیاست کی گئی۔ یہ دوغلا پن نہ صرف قوم کو تقسیم کرتا ہے بلکہ جمہوری عمل کو ایک تماشا بنا دیتا ہے۔
پاکستان کی سیاست کو اس وقت جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ یہی عدم استحکام نہیں بلکہ عدمِ استقلال ہے… وہ اخلاقی استقلال جو اصولوں کو مفاد پر ترجیح دے، جو آئین کو وقتی ضرورت کی بھینٹ نہ چڑھائے اور جو جمہوریت کو اپنی سیاسی بقا کا اوزار نہ بنائے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی ملک کو ایک مستحکم جمہوریت دینا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنی داخلی سیاست اور اپنے تاریخی کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ ورنہ وہی ہو گا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے: سیاسی قیادت بھی کمزور ہوگی، ادارے بھی تقسیم ہوں گے اور جمہوریت بھی مسلسل زخم کھاتی رہے گی۔
آخر میں، فولکر ترک کا انتباہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔ یہ ترمیمات اگر اسی رفتار سے چلتی رہیں تو وہ اصول، وہ نظریات اور وہ امیدیں جو عوام نے دہائیوں سے جمہوریت کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہیں، رفتہ رفتہ معدوم ہو جائیں گی۔ سوال یہ نہیں کہ فوج کتنا طاقتور ہو گئی ہے، سوال یہ ہے کہ سیاست نے خود اپنے ہاتھوں اپنی آزادی کیوں بیچ دی؟ جب ووٹ کو عزت دینے والے خود اقتدار کی عزت کو ترجیح دیں گے، تو پھر جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ کسی جنرل سے زیادہ وہ سیاسی قیادت خود ہوگی جو اصولوں کا سودا کرتی ہے۔





