(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر/۲۸نومبر
چین نے جمعہکو ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ تائیوان کے اردگرد کوئی مسئلہ نہ کھڑا کریں، یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کہ ایک نیوزی لینڈ کا نیول جہاز اس ماہ کے اوائل میں جزیرے اور چین کے درمیان موجود آبنائے سے گزرا۔
چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے پریس کانفرنس میں کہا،
"ہم کسی بھی ملک کی جانب سے تائیوان اسٹریٹ میں خلل ڈالنے یا تائیوان کی آزادی کی حامی علیحدگی پسند قوتوں کو غلط پیغام دینے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ چینی فوج نے اس بحری سفر کی نگرانی کی اور مؤثر طریقے سے جواب دیا۔
نیوزی لینڈ کی وزیر دفاع جوڈتھ کولنز نے جمعرات کو بتایا کہ HMNZS Aotearoa نے 5 نومبر کو تائیوان اسٹریٹ سے گزر کر جنوبی بحیرہ چین سے مشرقی بحیرہ چین کا رخ کیا، جہاں وہ شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نفاذ کے مشن میں شامل ہو گیا ہے۔
یہ گزرگاہ 2017 کے بعد نیوزی لینڈ کے کسی بحری جہاز کا دوسری بار تائیوان اسٹریٹ سے عبور ہے۔ 2024 کے ستمبر میں بھی ایسا ہی عبور ہوا تھا، جب آسٹریلیا اور جاپان کے جنگی جہاز بھی ساتھ تھے۔
نیوزی لینڈ ڈیفنس فورس نے کہا کہ اس سفر کے دوران چین کی پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے سات مختلف جہازوں نے Aotearoa کا پیچھا کیا، مگر "محفوظ اور پیشہ ورانہ فاصلے” پر۔
رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ چینی طیاروں نے اس دوران مشقی حملے بھی کیے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
چین کے آس پاس کے پانی تیزی سے کشیدہ ہو رہے ہیں، کیونکہ خطے کے ممالک کے فوجی گشت اب تیزی سے بڑھتی ہوئی چینی بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ زیادہ رابطے میں آ رہے ہیں جو بحرالکاہل کے مزید اندر تک جا رہی ہے۔






