سرینگر/۲۴نومبر
شہر میں طبی اداروں کے اندر شفافیت، احتساب اور مجموعی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں سرینگر پولیس نے صحت محکمہ کے میڈیکل افسران کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے استعمال میں آنے والے لاکرز کی اچانک اور ہمہ گیر تلاشی مہم چلائی۔
یہ جانچ پڑتال ضلع اور نجی اسپتالوں، میڈیکل کالجوں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں اور دیگر طبی مراکز میں کی گئی، جس کا مقصد لاکرز کے غلط یا غیر مجاز استعمال کو روکنا، مشتبہ مواد کی ذخیرہ اندوزی کے امکانات کو ختم کرنا اور طبی اداروں کے اندرونی تحفظ کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
پولیس اور متعلقہ میڈیکل ٹیموں نے تمام رینکس اور لاکرز کی تفصیلی جانچ کی، جبکہ عملے کو ہدایت دی گئی کہ وہ لاکرز کے استعمال کے حوالے سے مکمل ریکارڈ رکھیں اور انہیں صرف سرکاری و پیشہ ورانہ ضروریات کیلئے استعمال کریں۔
حکام نے واضح کیا کہ اس طرح کی تلاشی مہمات مستقبل میں بھی وقفے وقفے سے معمول کے معائنے کے طور پر جاری رہیں گی، تاکہ اسپتالوں میں محفوظ، شفاف اور ضابطہ شدہ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے ۔
سرینگر پولیس نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن قدم اٹھایا جاتا رہے گا۔
اس دوران پولیس نے پیر کے روز ضلع پلوامہ میں بھی مختلف اسپتالوں میں اسٹاف لاکرز کا اچانک معائنہ کیا۔ اس کارروائی کا مقصد اسپتالوں کی عمارتوں اور سہولیات کو کسی بھی ممکنہ غلط استعمال سے بچانا اور اندرونی سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اچانک چیکنگ صبح کے اوقات میں مختلف پولیس ٹیموں نے اسپتال انتظامیہ کے تعاون سے انجام دی۔ اسپتال چونکہ حساس اور عوامی آمد و رفت والے مقامات ہوتے ہیں، اس لیے پولیس نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی توجہ دی کہ ان سہولیات کو کسی غیر قانونی سرگرمی یا مشکوک مواد کی ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال نہ کیا جائے ۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ اسپتالوں میں جاری یہ سیکیورٹی مشق ایک وسیع حفاظتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، جس کا مقصد ضلع کے تمام اہم اداروں میں الرٹنس کو برقرار رکھنا ہے ۔
افسرنے کہا’’موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ہر حساس مقام پر کڑی نگرانی رکھی جائے ۔ اسپتال ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور آج کی کارروائی انہی اقدامات کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جاسکے ‘‘۔
پولیس نے اسپتال کے مختلف شعبوں، جن میں پیرا میڈیکل اسٹاف، لیبارٹری ٹیکنیشنز، صفائی ملازمین اور کنٹریکٹ ورکر شامل ہیں، کے لاکرز کا معائنہ اسپتال حکام کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد کیا۔
حکام نے بتایا کہ ہم پولیس کے اس تعاون کو خوش آئند سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے اچانک معائنے نہ صرف سیکیورٹی میں بہتری لاتے ہیں بلکہ ایسے عناصر کے لیے بھی سخت پیغام ہوتے ہیں جو عوامی اداروں کا غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
اس دروان سرینگر میں مجموعی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پولیس نے پیر کے روز کیمیکل اور کھاد فروخت کرنے والی دکانوں کی ہمہ گیر اور باریک بینی سے جانچ کی۔ یہ خصوصی مہم شہر کے تقریباً تمام بڑے تھانوں،جس میں ہارون، لعل بازار، چنہ پورہ، راجباغ، آر ایم باغ، ایم آر گنج، صفاکدل، زڈی بل، حضرت بل، نگین، صدر اور خانیار،کی حدود شامل تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق اس کارروائی کا بنیادی مقصد حساس کیمیکل اور کھاد کے کسی بھی ممکنہ غلط یا غیر قانونی استعمال کی روک تھام کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ تمام ڈیلر اسٹاک اور خرید و فروخت کا ریکارڈ درست رکھیں اور قانونی ضوابط کی مکمل پاسداری کریں۔
کارروائی کے دوران پولیس ٹیموں نے ہر دکان پر موجود اسٹوریج کی کیفیت، لائسنس کی حالت، حساس مواد کی حفاظت، بڑی مقدار میں خریداری کرنے والوں کی شناخت اور دکانداروں کی جانب سے برقرار رکھے جانے والے ریکارڈ کا بغور جائزہ لیا۔ دکانداروں کو سختی سے ہدایت دی گئی کہ وہ ہر طرح کی خرید و فروخت کا شفاف ریکارڈ رکھیں، حساس مواد کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کریں اور کسی بھی مشکوک لین دین یا غیر معمولی سرگرمی کی فوری طور پر اطلاع پولیس کو فراہم کریں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف موجودہ سکیورٹی ماحول کو پیش نظر رکھ کر کی جا رہی ہیں بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کی جانچ کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے گا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سرینگر پولیس شہریوں کی حفاظت اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے ، اور اس حوالے سے کیمیکل اور کھاد کی دکانوں کی نگرانی ایک اہم حصہ ہے ۔
سرینگر پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امن، تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اس طرح کے سخت اقدامات جاری رہیں گے اور تمام متعلقہ اداروں اور دکانداروں سے مکمل تعاون کی اپیل کی گئی ہے ۔یو این آئی










