حیدرآباد 19نومبر(یواین آئی) تلنگانہ بی جے پی صدر این رام چندر راؤ نے کانگریس اور بی آر ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں پارٹیاں کپاس کی خریداری اور کسانوں کی فلاح سے متعلق اسکیموں پر ‘ جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلا کر کسانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔
بی جے پی ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے کسان قرض معافی نافذ نہ ہونے اور رعیتوبندھو رقم کی ادائیگی رُک جانے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
راؤ نے الزام لگایا کہ بی آر ایس اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹی پروپگنڈہ مہم چلا رہی ہے ، جبکہ کانگریس اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مرکز پر بلاجواز الزام تراشی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی تاریخ کسانوں کو زنجیروں میں جکڑنے اور جیل بھیجنے سے بھری ہوئی ہے ، اور آج دونوں پارٹیاں کپاس کی خرید کرنے والی ادارہ، کاٹن کارپوریشن آف انڈیا پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں۔
سی سی آئی پر نئے نقصان دہ قواعد عائد کرنے کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے راؤ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے گزشتہ برسوں میں خریداری مراکز کو بڑے پیمانہ پر بڑھایا ہے ۔ 2014 سے پہلے تلنگانہ میں صرف 70 سے 80 خریداری مراکز تھے آج 200 سے زیادہ ہیں۔ مرکز نے سہولیات کو تین گنا بڑھایا ہے ۔
راؤ نے ریاستی حکومت کی جاری کردہ کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار پر بھی شکوک ظاہر کے اور کہا کہ یہ قومی اوسط کے مقابلہ غیر حقیقی طور پر زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور گجرات ریاستوں میں ایک ایکڑ سے 5 سے 7 کوئنٹل پیداوار ہوتی ہے جبکہ تلنگانہ کا 12 کوئنٹل کا دعویٰ قابلِ یقین نہیں ہے ۔ پچھلے سال ریاست کی حقیقی پیداوار 6.32 کوئنٹل فی ایکڑ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے خریداری میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے سی سی آئی، ریاستی محکمہ زراعت، ٹیکسٹائل ڈپارٹمنٹ اور جننگ ملرس ایسوسی ایشن کے ساتھ بات چیت کی ہے ۔ راؤ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے واضح ہدایات دی ہیں کہ کپاس کی ہر گانٹھ خریدی جائے ۔ کسان فکر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی سی آئی مارچ تک ایم ایس پی پر خریداری جاری رکھے گی۔
شفافیت بڑھانے کے لئے انہوں نے مرکز کی ‘کاٹن کسان ایپ’ کا ذکر کیا جس کے ذریعہ کسانوں کو وقت کے سلاٹس ملتے ہیں، خریداری مراکز پر ہجوم کم ہوتا ہے ، بروکرس کا کردار ختم ہوتا ہے اور رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع ہوتی ہے ۔ راؤ نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت تجویز بھیجے تو مرکز 100 نئی جننگ ملوں کی منظوری دینے تیار ہے ۔








