حیدرآباد 19نومبر(یواین آئی) آندھرا پردیش کے ایجنسی علاقہ ماریڈوملی کے جنگلات میں ایک بار پھر انکاؤنٹر پیش آیا۔ بدھ کی صبح سکیورٹی فورسس اور ماؤ نوازوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ میں سات ماؤ نواز ہلاک ہوگئے ۔ مہلوکین میں تین خواتین اور چار مرد شامل ہیں، جن کا تعلق چھتیس گڑھ سے بتایا جا رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ماؤ نوازوں کی سینئر لیڈر دیوی بھی شامل ہے ۔
جنگلات میں سکیورٹی فورسس کی تلاشی کارروائی جاری ہے ، جبکہ لاشوں کو رمپاچوڑاورم ایریا اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ اس انکاؤنٹر کی تصدیق اے پی انٹلی جنس ڈی جی مہیش چندر لڈھا نے کی اور کہا کہ مکمل تفصیلات جلد فراہم کی جائیں گی۔
وجئے واڑہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقی ماؤ نوازوں کے لئے بہتر ہے کہ وہ خود سپردگی اختیار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ چھتیس گڑھ اور تلنگانہ سے ماؤ نواز آندھرا پردیش میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی رکھی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 17 نومبر کو ایک اہم آپریشن شروع کیا گیا اور 18 نومبر کی صبح الوری سیتارام راجو ضلع میں ہونے والی فائرنگ میں ماؤ نوازوں کے مرکزی کمیٹی رکن ہِڈما مدوی سمیت پانچ دیگر ماؤ نواز ہلاک ہوئے ۔
اسی دوران این ٹی آر، کرشنا، ایلورو، کاکناڈااور کوناسیما اضلاع سے 50 ماؤ نوازوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں خصوصی زونل کمیٹی کے 3 ارکان، پلاٹون ارکان 23، ڈویژنل کمیٹی ارکان5 اور ایریا کمیٹی ارکان 19 شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریاں اس طرح کی گئیں کہ عوام کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔
گرفتار شدگان سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ منگل کے انکاؤنٹر کے بعد کچھ ماؤ نواز فرارہوگئے تھے جن کی تلاش کے لئے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کو ہڈما کی جانب سے مکتوب لکھنے کی کوئی اطلاع درست نہیں، کیونکہ ہڈما فائرنگ کے تبادلے میں ہی مارا گیا تھا، اسے پکڑ کر قتل کئے جانے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماؤ نوازوں سے پاک آندھرا پردیش کے لئے کوششیں جاری ہیں اور توقع ہے کہ بہت جلد کئی ماؤ نواز خود سپردگی اختیار کریں گے ۔ چھتیس گڑھ میں بڑی کارروائیوں کے بعد ماؤ نواز مختلف علاقوں کی طرف بھاگ رہے ہیں اور اسی دوران پکڑے جا رہے ہیں۔








