ممبئی، 12 نومبر (یو این آئی) شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بدھ کے روز سندھودرگ ضلع میں اپنی پارٹی کے بعض مقامی رہنماؤں کی جانب سے شیو سینا (شندے دھڑے ) کے ساتھ اتحاد کی تجویز پیش کیے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ یہ تجویز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار سے دور رکھنے کے مقصد سے پیش کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق، حال ہی میں کنکاولی میں ہونے والی ایک بند کمرہ میٹنگ میں ضلع کے سینا رہنماؤں نے بلدیاتی انتخابات، خاص طور پر کانکاولی میونسپل کونسل کے تناظر میں، شندے گروپ کے ساتھ ممکنہ اتحاد پر تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ کے بعد مقامی رہنما سندیپ پراب، ویبھو نائک اور دیگر نے ممبئی میں ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کر کے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹھاکرے نے واضح ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شیو سینا (یو بی ٹی) "سب کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے ، مگر شندے دھڑے کے ساتھ نہیں”، تو پھر ایسی تجویز کیسے دی جا سکتی ہے ۔
مقامی رہنماؤں نے دلیل دی کہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے نہ صرف شیو سینا کے دونوں دھڑے بلکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی متحد ہونا چاہیے ۔ ان کے مطابق، اس اتحاد سے ضلع میں بی جے پی کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم ادھو ٹھاکرے نے کسی بھی طرح کی ہدایت جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے واضح کیا کہ شندے گروپ کے ساتھ کسی بھی سطح پر اتحاد ناقابل قبول ہے ۔






