جموں/۷ نومبر
جموں کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے حراست میں لیے گئے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے معراج ملک کی جانب سے دائر درخواست کو ۲۰ نومبر کو حتمی غور کے لیے مقرر کر دیا ہے، پارٹی کے ترجمان نے جمعہ کو کیس کی سماعت کے بعد بتایا۔
ملک، جو عام آدمی پارٹی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر ہیں، کو۸ ستمبر کو عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کے الزام میں سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں کٹھوعہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
۲۴ ستمبر کو ملک نے اپنی حراست کو چیلنج کرتے ہوئے حبسِ بیجا کی درخواست دائر کی تھی اور۵کروڑ روپے بطور ہرجانہ طلب کیا تھا۔
اے اے پی کے ترجمان اپو سنگھ سلاتھیا نے بتایا’’ملک کی حبسِ بیجا درخواست جموں میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جسٹس رجنیش اوسوَال کے روبرو پیش ہوئی۔ سماعت کے دوران ان کی قانونی ٹیم نے پرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے اب تک جواب داخل نہیں کیا ہے، اور اس تاخیر کے باعث ایک حاضرِ خدمت ایم ایل اے اب بھی جیل میں ہیں، جبکہ ان کے حلقۂ انتخاب کے عوام متاثر ہو رہے ہیں‘‘۔
سلاتھیا، جو ملک کی قانونی ٹیم کا حصہ ہیں، نے بتایا کہ ٹیم میں سینئر وکیل راہول پنت، ایڈووکیٹ ایس ایس احمد، ایم طارق مغل اور ایم ذوالقرنین چودھری شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی نمائندگی سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مونیکا کوہلی اور سینئر وکیل سنیل سیٹھی کر رہے تھے، جنہوں نے عدالت میں بتایا کہ حکومت نے جمعرات کو اپنا جواب داخل کیا ہے، تاہم حلف نامے میں ایک تکنیکی خامی کے باعث وہ ریکارڈ پر شامل نہیں ہو سکا۔
سلاتھیا کے مطابق، ’’کھلی عدالت میں مدعا علیہ کے وکیل نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب کی نقول فراہم کیں۔ عدالت نے رجسٹری کو ہدایت دی کہ حکومت کے داخل کردہ جوابات ریکارڈ پر لائے جائیں اور حکومت کے وکیل کو اگلی سماعت پر تمام ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔‘‘
انہوں نے بتایا ’’یہ معاملہ اب ۲۰ نومبر کو حتمی غور کیلئے رکھا گیا ہے۔ایجنسیز‘‘










