سرینگر/۷ نومبر
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر اگلے سال بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں اور اس بات کا ذکر کیا کہ نئی دہلی کے ساتھ بات چیت ’اچھی جا رہی ہے‘۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک سوال کے جواب میں کہا’’یہ بہترین ہے، اچھی جا رہی ہے۔ وہ (وزیر اعظم نریندر مودی) نے بڑی حد تک روس سے تیل خریدنا بند کر دیا ہے‘‘۔
امریکی صدر نے مزید کہا’’وہ میرے دوست ہیں، اور ہم بات کرتے رہتے ہیں… وہ چاہتے ہیں کہ میں وہاں جاؤں۔ ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ میں جاؤں گا۔ میں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ایک شاندار دورہ کیا تھا، وہ ایک عظیم شخصیت ہیں۔ اور میں دوبارہ جاؤں گا‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اگلے سال بھارت کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ٹرمپ نے کہا، ’’ممکن ہے، ہاں‘‘۔
بھارت آئندہ سال کواڈ سمٹ کی میزبانی کرے گا، جس میں آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے رہنما شرکت کریں گے۔۲۰۲۴کی سربراہی کانفرنس ولمنگٹن، ڈیلاویئر میں منعقد ہوئی تھی، تاہم بھارت میں ہونے والے اجلاس کی تاریخوں کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو تجارتی اقدامات کے ذریعے روکا تھا۔
امریکی صدر نے کہا’’آٹھ جنگوں میں سے جو میں نے ختم کیں، ان میں سے پانچ یا چھ جنگیں محصولات کے ذریعے ختم ہوئیں۔ مثال کے طور پر، بھارت اور پاکستان کو لیجیے۔ وہ لڑنے لگے، دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں…وہ ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ آٹھ طیارے گرائے گئے۔ پہلے سات کہہ رہا تھا، مگر اب آٹھ ہیں، کیونکہ ایک طیارہ جو جزوی طور پر گرا تھا، اب ترک کر دیا گیا ہے۔ آٹھ طیارے گرائے گئے‘‘۔
ٹرمپ نے مزید کہا’’میں نے کہا، اگر تم لوگ لڑتے رہے تو میں تم پر محصولات لگا دوں گا۔ وہ دونوں ناخوش ہوئے، لیکن ۲۴ گھنٹوں کے اندر میں نے وہ جنگ ختم کر دی۔ اگر میرے پاس محصولات نہ ہوتے تو میں وہ جنگ ختم نہیں کر سکتا تھا‘‘۔
صدر ٹرمپ نے محصولات کو ’ایک عظیم قومی دفاع‘بھی قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










