سرینگر/۳۱؍اکتوبر
محکمہ سیاحت نے اسمبلی میں اعتراف کیا کہ۲۲؍اپریل۲۰۲۵کو پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے نے جموں و کشمیر کی سیاحت کو گہرا زخم دیا، جس کے نتیجے میں وادی میں سیاحوں کی آمد، روزگار اور معیشت پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے ۔
محکمہ سیاحت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد وادی کے متعدد معروف سیاحتی مقامات کو سکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس سے سیاحوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی اور بڑی تعداد میں بکنگ منسوخ ہوئی۔
محکمے کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، واقعے سے قبل ہوٹلوں میں سیاحوں کی موجودگی کی شرح۸۹تا۹۰فیصد تھی جو مئی۲۰۲۵میں۴تا۵فیصد تک گر گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس زبردست گراوٹ نے سیاحت پر منحصر ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو متاثر کیا، جن میں ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز، ٹریول ایجنٹس، ہاؤس بوٹ اونرز، شکارہ آپریٹرز اور مقامی دستکار شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فی الوقت محکمہ سیاحت کے تحت کوئی ترغیبی یا مالی معاونتی اسکیم نافذ العمل نہیں ہے ، تاہم حکومت نے سیاحتی شعبے کی بحالی کے لیے ملک گیر سطح پر تشہیری سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔
محکمہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو دوبارہ مستحکم کرنے ، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور مقامی آبادی کے روزگار کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے ۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت کے سیاحتی ترقی کو معیشت کی بحالی کا اہم ذریعہ قرار دینے کے بلند بانگ دعوے اْس وقت بے نقاب ہو گئے جب سرکاری اعداد و شمار سے انکشاف ہوا کہ گزشتہ دو مالی برسوں میں اہم سیاحتی اداروں کو دی گئی رقومات اور اْن کے حقیقی اخراجات کے درمیان تشویش ناک تفاوت موجود ہے۔ یہ صورتحال مالی نظم و ضبط کی کمی اور انتظامی نااہلی میں اضافے کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو محکمہ سیاحت کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے آج قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے ایک سوال کے تحریری جواب میں جو اعداد و شمار پیش کیے، اْن سے پتہ چلتا ہے کہ سیاحتی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مختص بھاری رقوم یا تو خرچ ہی نہیں ہوئیں یا پھر جزوی طور پر استعمال کی گئیں، جس سے منصوبہ بندی، نگرانی اور مالی نظم کی عدم موجودگی آشکار ہوتی ہے۔
سال۲۰۲۳۔۲۰۲۴ میں محکمہ کو۲۵۳۷۵لاکھ روپے مختص کیے گئے اور پوری رقم جاری بھی کی گئی، لیکن صرف۴۳ء۱۲۸۶۳ لاکھ روپے خرچ ہوئے‘یعنی محض۷ء۵۰ فیصد استعمال۔ یہی رجحان مالی سال ۲۰۲۴۔۲۰۲۵میں بھی برقرار رہا، جب۵۰ء۲۶۸۴۲ لاکھ روپے کی مختص و موصولہ رقم میں سے صرف ۴۶ء۱۶۳۶۳ لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جو۶۱ فیصد استعمال ظاہر کرتا ہے۔
تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ تقریباً تمام نفاذی اداروں میں یہی صورتحال ہے۔ ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر، جو سیاحتی مقامات کی تشہیر کا مرکزی ادارہ ہے، نے۲۰۲۳۔۲۰۲۴ میں۲۰۰۰ لاکھ روپے کی مختص رقم میں سے صرف۹۰ء۴۷۵ لاکھ روپے خرچ کیے، اور۲۰۲۴۔۲۰۲۵ میں۸۷ء۲۳۷۰ لاکھ میں سے محض۹۰ء۷۷۹لاکھ روپے یعنی بالترتیب ۲۴ فیصد اور ۳۳ فیصد استعمال۔
ڈائریکٹر ٹورازم جموں کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جس نے دونوں مالی برسوں میں بالترتیب ۴۲ فیصد اور ۷۳ فیصد رقم استعمال کی۔ مالی سال۲۰۲۳۔۲۴میں ۲۲۰۰ لاکھ روپے کے مقابلے میں ۰۱ء۹۲۸ لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ ۲۰۲۴۔۲۵ میں۵۱ء۲۰۰۷ لاکھ روپے میں سے۵۰ء۱۴۶۵ لاکھ روپے استعمال ہوئے۔ندائے مشرق ڈیسک










