سرینگر/۳۰؍اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے اسمبلی میں بتایا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف محکموں کی جانب سے۱۰ہزار۸۹۴؍اسامیاں جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کو بھیجی گئی ہیں۔
حکومت نے کہا کہ ان میں سے۳ہزار۵۷؍اسامیاں اشتہار کے مرحلے پر یا جلد مشتہر ہونے والی ہیں،۱۱۶۴؍اسامیوں کے اشتہارات فعال ہیں، ۶ہزار۹۹؍اسامیاں امتحان کے مرحلے میں ہیں، جبکہ۵۷۴؍اسامیاں انتخاب کے آخری مرحلے میں ہیں۔
یہ تفصیلات اسمبلی میں رکن اسمبلی سنیل کمار شرما کے ایک سوال کے جواب میں حکومت کی جانب سے پیش کی گئیں۔
رکن اسمبلی کے سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے کہا’’اب جموں وکشمیر سروسز سلیکشن بورڈ پورا امتحانی عمل خود کراتا ہے ، جو پہلے منتخب ایجنسیوں کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ بورڈ نے سال۲۰۲۴میں۵ہزار۶۵۳؍اور ۲۰۲۵میں۷۶۳؍اسامیوں پر بھرتیاں مکمل کی ہیں، جب کہ باقی زیر التواء تقرریوں کو جلد مکمل کیا جائے گا۔
حکومت نے بتایا کہ بھرتی کے عمل کو تیز تر اور شفاف بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کو اضافی افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی اور سادہ طریقہ کار کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے تاکہ امتحانات بروقت منعقد ہوں۔
حکومت کے جواب میں مزید کہا گیا کہ پورا بھرتی عمل مکمل طور پر منصفانہ، شفاف اور وقت بند نظام کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ تمام بھرتی ایجنسیوں کو مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ایک مؤثر مانیٹرنگ میکنزم قائم کیا گیا ہے تاکہ بھرتی کے پورے عمل کو معیاری، شفاف اور تیزتر بنایا جا سکے ۔
دریں اثنا جل شکتی محکمہ کے وزیر جاوید احمد رانا نے آج کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی سے متعلق پالیسی زیرِ غور ہے۔
یہ بات وزیر نے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر سجاد شفیع کے سوال کے جواب میں قانون ساز اسمبلی میں کہی۔
رانا نے کہا کہ محکمے میں کئی فیلڈ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے باعث عملے کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ پی ایچ ای سب ڈویڑن اوڑی میں اسسٹنٹ لائن مین کے۱۲۵ عہدوں پر ملازمین تعینات ہیں، جبکہ صرف آٹھ لائن مین کی پوسٹیں خالی ہیں۔تاہم وزیر نے کہا کہ عوام کو پانی کی باقاعدہ فراہمی اور واٹر سپلائی اسکیمز کی مسلسل دیکھ بھال و آپریشن کو یقینی بنانے کیلئے عبوری انتظامات کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ انتظامات محکمے کے دستیاب افرادی قوت… بشمول مستقل ملازمین اور یومیہ اجرت والے کارکنان … کی اندرونی تعیناتی کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ خالی اسامیاں باقاعدہ بھرتی، ترقی یا ازسرِنو تعیناتی کے ذریعے محکمانہ ضوابط کے مطابق پْر کی جا سکیں۔
(ندائے مشرق خبر)
۔۔۔۔۔۔۔










