سرینگر/۲۷؍ اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے پیر کے روز سرینگر کے تاریخی گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول، کوٹھی باغ میں ڈریم اسکول پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ یہ پراجیکٹ جموں و کشمیر حکومت اور فیصل و شبانہ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مارچ ۲۰۲۳ میں شروع کیا گیا تھا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’حکومتی اسکول بھارت کی تعلیمی اصلاحات کے مستقبل کی قیادت کریں گے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹکس لیب، ایس ٹی ای ایم انویشن سینٹرز، اسمارٹ کلاس رومز، جدید ڈیجیٹل ڈھانچہ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور ہمہ جہت تعلیمی ماحول ہر بچے کی پوشیدہ صلاحیت کو اجاگر کرے گا۔
سنہا نے کہا’’ہمارے نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہی کا ہنر اور صلاحیت ملک کے مستقبل کی سمت طے کرے گی۔ گزشتہ چند برسوں میں ہم نے جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کو ایک ’اویسس آف ٹیلنٹ‘ بنانے کے لیے گہرے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ ڈریم اسکول پراجیکٹ حکومت کے اس عزم کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر کے ہر بچے کو عالمی معیار کی تعلیم اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ بڑے خواب دیکھ سکیں اور انہیں پورا کرنے کی جستجو پیدا ہو۔
پراجیکٹ کے تحت فیصل و شبانہ فاؤنڈیشن نے جدید سہولیات سے آراستہ مڈل اسکول بلاک تعمیر کیا ہے، جس میں روبوٹکس اور ایس ٹی ای ایم لیب، ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، الگ کچن اور اسٹور روم کے ساتھ لنچ روم شامل ہیں۔ یہ ماڈل کیرالہ کے نڈکّاوْو اسکول کی کامیابی پر مبنی ہے، جسے گزشتہ پانچ برسوں سے بھارت کے سرکاری دن کے بہترین اسکولوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کا مقصد ہر اسکول کو جدت، شمولیت اور تحریک کا مرکز بنانا ہے تاکہ یہاں سے ایسے نوجوان تیار ہوں جو ملک کے مستقبل کی تشکیل کریں۔ انہوں نے کہا’’ہم ایسا ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ہر طالب علم کو ترقی اور کمال کی جانب لے جائے … جہاں ان کی سماجی، جذباتی اور ذہنی نشوونما متوازن انداز میں ہو اور وہ مستقبل کے بہترین شہری بن سکیں‘‘۔
سنہا نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں یو ٹی انتظامیہ نے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سب کے لیے تعلیم کی مساوی رسائی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جدید ٹیکنالوجی و مہارتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ کو پانچ اصول بتائے‘حوصلہ پاؤ‘بڑے سوچو،‘بڑے خواب دیکھو‘تعلیمی سفر میں جرات کے ساتھ خطرات اٹھاؤ،اور دوسروں کے لیے ہمدردی و احساس پیدا کرو۔
سنہا نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسا نظامِ تعلیم فروغ دیں جو تخلیق، تجسس، جدت اور تنقیدی سوچ کو انعام دے۔ ان کا کہنا تھا’’ہمیں ایسا نظام چاہیے جو تخلیق کو مقابلے سے متوازن رکھے ‘جہاں امتحانات یادداشت کے بجائے سمجھ، جدت اور تجربے پر مبنی ہوں، اور جہاں انفرادیت اور تخلیقی صلاحیت کو نمبروں اور تمغوں سے زیادہ اہمیت دی جائے۔‘‘
ایل جی سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے بعد تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ، اور سرکاری اسکولوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے ۔
ایل جی نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی نے تدریسی منظرنامے میں ایک مثبت انقلاب برپا کیا ہے ، جہاں اسکول اب پرانے اور روایتی تعلیمی ڈھانچوں سے نکل کر جدید، تخلیقی اور طلبہ مرکوز تعلیم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی حیرت انگیز طور پر بہتر ہوئی ہے ‘‘۔
سنہا نے مزید کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں کے معیار کے برابر لایا جائے ، جس کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، تدریسی طریقوں کی جدید کاری، اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے ۔
ایل جی نے زور دیا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں کثیر الجہتی صلاحیتیں، تخلیقی سوچ اور تنقیدی فہم پیدا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا’’ہمیں بچوں کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچاننا اور اُن کی رہنمائی کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنی پسندیدہ شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکیں‘‘۔
سنہا نے طالبات کی کامیابیوں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی لڑکیاں تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں دونوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہی ہیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی طالبات نہ صرف شاندار کارکردگی دکھا رہی ہیں بلکہ قوم کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ آج کئی دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ نئی نسل کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں اور وہ مستقبل کے چیلنجوں کا اعتماد کے ساتھ سامنا کر سکیں۔ڈی آئی پی آر










