پیرس، 22 اکتوبر (یو این آئی) نکولس سرکوزی جیل جانے والے پہلے فرانسیسی سابق صدر بن گئے ہیں۔ انہیں مرحوم لیبیائی آمر معمر قذافی سے اپنی انتخابی مہم کے لیے فنڈ حاصل کرنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ، جب نازی حامی رہنما فلپ پیٹین کو 1945 میں غداری کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا ، اس وقت سے کسی بھی فرانسیسی سابق رہنما کو جیل نہیں بھیجا گیا ہے ۔ سرکوزی، جو 2007 سے 2012 تک صدر رہے ، نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی ہے اور انہیں پیرس کی مشہور لا سانتے جیل میں ایک علیحدہ کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے ۔
جب وہ اپنی اہلیہ کارلا برونی-سرکوزی کا ہاتھ تھامے پیرس کے پوش 16ویں ضلع میں واقع اپنے ولا سے باہر نکلے ، تو سو سے زیادہ لوگوں نے تالیاں بجائیں اور ‘نکولس’ کے نعرے لگائے ۔
ان کے 28 سالہ بیٹے لوئی نے حامیوں سے حمایت دکھانے کی اپیل کی، جبکہ دوسرے بیٹے پیئر نے محبت کا پیغام دیتے ہوئے کہا ‘براہِ کرم اب مزید کچھ نہیں۔’
ستر سالہ نکولس سرکوزی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9:40 بجے سِین ندی کے جنوب میں واقع مونٹپرناسے ضلع میں 19ویں صدی کی مشہور، زیادہ بھیڑ والی جیل کے دروازے سے اندر لے جایا گیا۔ اس موقع پر درجنوں پولیس اہلکاروں نے آس پاس کی سڑکوں کو بند کر رکھا تھا۔
وہ متنازعہ لیبیائی فنڈنگ کیس میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں اور جیل جاتے وقت انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں لکھا تھا ”مجھے کوئی شک نہیں۔ سچائی کی فتح ہوگی۔ لیکن اس کی قیمت بہت بڑی ہوگی۔”
انہوں نے مزید لکھا ”میں پوری یقین دہانی کے ساتھ فرانسیسی عوام سے کہتا ہوں کہ آج صبح وہ کسی سابق صدر کو نہیں، بلکہ ایک بے گناہ شخص کو جیل میں ڈال رہے ہیں۔”
”میرے لیے غمگین مت ہوں، کیونکہ میری اہلیہ اور میرے بچے میرے ساتھ ہیں… لیکن آج صبح مجھے فرانس کے لیے گہرا دکھ ہو رہا ہے ،جسے انتقام کے جذبے سے رسوا کیا گیا ہے ۔”










