سرینگر/۱۵؍ اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج سول سیکرٹریٹ میں محکمہ معدنیات کی ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں محکمے کی جدید کاری کی کوششوں، ضابطہ جاتی فریم ورک اور معدنی وسائل کے انتظام و نگرانی میں جاری اصلاحات پر غور کیا گیا۔
محکمہ معدنیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نے گزشتہ برسوں میں حاصل کردہ تکنیکی ترقی، ضابطہ جاتی اصلاحات، دریافت منصوبوں اور مالی نتائج پر مشتمل ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
میٹنگ کا اہم نکتہ ’’انٹیگریٹڈ مائننگ سرویلنس سسٹم‘‘ (آئی ایم ایس ایس) کی پیشکش اور لائیو مظاہرہ تھا ‘جو بھاسکراچاریہ انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلیکیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی) کے اشتراک سے تیار کردہ ایک ڈیجیٹل نظام ہے۔ یہ پورٹل اور موبائل ایپ ریئل ٹائم میں معدنی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے، جس میں ای چالان اور ای مارکیٹ نظام شامل ہیں، تاکہ شفافیت، جوابدہی اور ضابطہ جاتی عمل داری کو مضبوط بنایا جا سکے۔
میٹنگ کو بتایا گیا کہ نظام کے ذریعے اب تک۲۴۳سے زائد ’’ٹرگرز‘‘ فیلڈ ویریفکیشن کے لیے جنریٹ کیے گئے ہیں، جن میں وہیکل ٹریکنگ، جی پی ایس مانیٹرنگ، جے اینڈ کے بینک سے منسلک پی او ایس ای-چالاننگ اور موقع پر نفاذ جیسے فیچرز شامل ہیں تاکہ غیر قانونی کان کنی پر قابو پایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے ہدایت دی کہ پی او ایس افعال کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ محکمے کے موجودہ پورٹل کوآئی ایم ایس ایس پلیٹ فارم کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں۔
عمر عبداللہ نے تجویز دی کہ اس ایپ میں شہریوں کو بھی شکایات درج کرنے کی سہولت دی جائے، جس میں سیٹلائٹ امیجری یا دیگر ثبوت منسلک کیے جا سکیں تاکہ عوامی شمولیت اور شکایتوں کے ازالے کا نظام مضبوط ہو۔
وزیر اعلیٰ نے محکمے کو ہدایت دی کہ فعال اور غیر فعال معدنی سپلائرز کی درجہ بندی کی جائے اور ڈائریکٹوریٹ سطح پر ایک مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے جو ریئل ٹائم نگرانی اور ڈیٹا ٹریکنگ کرے۔
میٹنگ میں ’’اسپیشل اسسٹنس ٹو اسٹیٹس فار کیپٹل انویسٹمنٹ‘‘ ۲۵۔۲۰۲۶کے تحت جاری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ محکمہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور شفافیت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں معدنی بلاکس کی الاٹمنٹ کے لیے نیلامی پر مبنی نظام، مائن کلوزر و بحالی کے اصول، اور جدید سروے و میپنگ میکانزم شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ’’ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن ٹرسٹ‘‘ (ڈی ایم ایف ٹی) کا ڈھانچہ بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کان کنی سے حاصل آمدنی براہِ راست مقامی ترقی اور بہبود کے منصوبوں پر خرچ کی جا سکے۔
محکمے نے جی پی ایس سے لیس ٹرانسپورٹ اور پی او ایس ٹرانزیکشنز کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ معدنیات کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور چوری یا لیکیج روکا جا سکے۔ حالیہ عدالت عالیہ کی ہدایات کے مطابق ’’رائلٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ‘‘ کے بغیر کان کنی پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے ضابطہ جاتی نگرانی مزید سخت ہوئی ہے۔
محکمے نے بڑے اور چھوٹے معدنی بلاکس کی صورتحال پیش کی، جس میں نیلامی اور لیز کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ نیلامی سے پہلے تمام منظوریوں اور این او سی کو مکمل کیا جائے تاکہ کامیاب بولی دہندگان کو بعد میں درپیش مشکلات سے بچایا جا سکے۔
غیر قانونی کان کنی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’میری گزشتہ مدتِ وزارت کے دوران غیر قانونی کان کنی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ آج جبکہ جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہے، اگر ایسی سرگرمی ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نچلی سطح پر ملی بھگت ہے۔ محکمہ کو چاہیے کہ ان نظاموں کا مؤثر استعمال کرے تاکہ یہ گنجائش ختم ہو۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے معدنیات کی دریافت کے جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جنہیں ایم ای سی ایل اور جی ایس آئی مختلف اضلاع میں نیلم، لیتھیئم، لیگنائٹ، بایوجینک گیس، گرینائٹ، گریفائٹ، جپسم، تانبہ اور دیگر معدنیات پر انجام دے رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے ہدایت دی کہ ماحولیاتی ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے، خاص طور پر حساس علاقوں میں، اور معدنی ترقی کو پائیدار انداز میں آگے بڑھایا جائے۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ معدنیات کی ڈیجیٹل اختراعات اور ادارہ جاتی اصلاحات کی تعریف کی اور زور دیا کہ شفافیت، مؤثریت اور ماحولیاتی ذمہ داری پر فوکس برقرار رکھا جائے۔(ڈی آئی پی آر)










