سرینگر۱۳؍اکتوبر
جموں کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے کانگریس نے نیشنل کانفرنس (این سی) پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کو اپنے امیدواروں کے انتخاب سے قبل تمام ہم خیال جماعتوں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔
اے آئی سی سی کے جنرل سیکریٹری غلام احمد میر نے اننت ناگ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو اپنی راجیہ سبھا امیدواروں کی فہرست طے کرنے سے پہلے تمام ہم خیال پارٹیوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔
میر نے مزید کہا کہ کانگریس کو یہ یقین ہے کہ کوئی بھی غیر بی جے پی ایم ایل اے نیشنل کانفرنس کے امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں ڈالے گا۔
کانگریس جنرل سیکریٹری کے مطابق جموں و کشمیر کی ۸۸رکن اسمبلی میں۶۰غیر بی جے پی ایم ایل ایز ہیں، اور بی جے پی کو ان۶۰غیر بی جے پی ووٹوں میں سے ایک ووٹ بھی نہیں ملے گا۔ پارٹی اندرونی مسائل کا شکار ہے اور اسے اپنے اندر نظم و ضبط قائم رکھنا مشکل ہے ۔
میر نے کہا کہ کانگریس نے این سی سے محفوظ نشست کی درخواست کی تاکہ وہ راجیہ سبھا انتخابات میں حصہ لے سکے ، لیکن علاقائی جماعت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔’’ہم پہلے تین نشستوں کے لیے امیدوار کھڑا کرنا چاہتے تھے ، لیکن این سی نے ہمیں چوتھی نشست کی پیشکش کی، جو محفوظ نہیں تھی۔ اس لیے کانگریس نے چوتھی نشست کیلئے امیدوار نہ کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر ۱۵فروری۲۰۲۱سے راجیہ سبھا میں نمائندگی سے محروم ہے ، جب غلام نبی آزاد اور نذیر احمد کے دور مکمل ہوئے ۔ اس کے علاوہ فیاض احمد میر اور شمشیر سنگھ منہاس بھی ۱۰فروری۲۰۲۱کو اپنے عہدے کی مدت مکمل کر چکے ہیں۔










