’سرینگر/۱۱؍اکتوبر
وادیٔ کشمیر کی صدیوں پرانی دستکاری وراثت کے رنگا رنگ جشن میں آج محکمہ دستکاری و ہینڈلوم کشمیر نے جہلم ریور فرنٹ پر ’’نو یور آرٹسَن‘کے عنوان سے ایک منفرد پروگرام کا آغاز کیا۔
اس یادگار تقریب کا افتتاح کمشنر سیکرٹری محکمہ صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ نے کیا، جس سے دو ماہ طویل ثقافتی سلسلے کی باضابطہ شروعات ہوئی۔ ڈائریکٹر ہینڈلوم و ہینڈی کرافٹس مسرّت اسلام سمیت محکمہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر کی دستکاری صرف اشیاء کی تیاری نہیں بلکہ یہ وادی کی ثقافتی شناخت اور معاشی ڈھانچے کی جیتی جاگتی علامت ہے۔انہوں نے کہا ’’آج کی تیز رفتار دنیا میں کاریگر اکثر پردے کے پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ اصل کہانی ان کے ہاتھوں میں ہے‘‘ ۔
اسی تناظر میں، محکمہ نے ’’سول فل کشمیر‘‘ مہم کے تحت ’’نو یور آرٹسَن‘‘ کو ایک انقلابی پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد کاریگروں اور خریداروں کو ایک ہی چھت تلے لانا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف ہنرمندوں کی زندگیوں اور ان کے فن کی کہانیاں سامنے لائی جا رہی ہیں بلکہ مارکیٹ سے براہِ راست تعلق قائم کر کے ان کے روزگار کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ تقریب کے اہم مقاصد میں کاریگروں کو براہِ راست عوام کے سامنے اپنے فن کے مظاہرے کا موقع دینا، ’’سول فل کشمیر‘‘ برانڈ کے تحت وادی کی اصل دستکاری کو اجاگر کرنا، مارکیٹ تک رسائی بڑھانا، نوجوانوں اور سیاحوں میں کشمیر کے متنوع ہنر سے آگاہی پیدا کرنا اور کاریگروں کی معاشی بہتری کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔
آج کے افتتاحی پروگرام میں مختلف دستکاروں کے براہِ راست مظاہرے، عوامی گفتگو، نمائش و فروخت کے اسٹالز اور ثقافتی پروگراموں نے جہلم کنارے کو ایک پْرمسرت اور فنکارانہ ماحول میں بدل دیا۔
اس موقع پر سات ممتاز کاریگر ، پشمینہ باف مسعود احمد، پیپر ماشی کے ماہر مقبول احمد جان، پدم شری ایوارڈ یافتہ کانی شال کے کاریگر فاروق احمد میر، نیشنل ایوارڈ یافتہ سوزنی کاریگر محبوب علی بیگ، قالین باف شاہنواز صوفی، اخروٹ کی لکڑی کے نقش کار محمد یوسف موران، اور خطم بندھ کے ماہر علی محمد گیرو ‘ اپنی فنکاری کے ساتھ نمایاں رہے۔
وکرم جیت سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا، ’’یہ اقدام ہمارے کاریگروں کے لیے امید کی کرن ہے، جو ان کے فن کو براہِ راست دنیا تک پہنچاتا ہے۔ سول فل کشمیر کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے ورثے کو محفوظ کر رہے ہیں بلکہ اسے معاشی ترقی کے دھاگے میں بھی پرو رہے ہیں۔‘‘
ترجمان کے مطابق ’’نو یور آرٹسَن‘‘ سیریز سے عوامی اور سیاحتی دلچسپی میں اضافہ، کاریگروں کو نئی مارکیٹ تک رسائی، فروخت میں اضافہ، ’’سول فل کشمیر‘‘ برانڈ کی وسیع تشہیر اور مستقبل کی مہمات کے لیے اہم دستاویزی مواد کی تیاری متوقع ہے۔
محکمہ دستکاری و ہینڈلوم کشمیر بطور نوڈل ایجنسی آئندہ مہینوں میں اس منصوبے کو سرینگر کے مختلف تاریخی مقامات پر شراکت دار اداروں کے تعاون سے مرحلہ وار نافذ کرے گا۔ڈی آئی پی آر










