نئی دہلی، 8، اکتوبر (یو این آئی) دہلی پولیس کے مغربی ضلع کی سائبر تھانہ ٹیم نے ایک بڑے آن لائن نوکری گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس نے کارروائی کے دوران پانچ اسمارٹ فون، دس بینک پاس بُک، چودہ چیک بُک اور پانچ لاکھ روپے نقد برآمد کیے ہیں۔ گرفتار ملزمان کا ایک چینی شہری کے ساتھ براہِ راست رابطہ تھا جو ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے ذریعے اس گھوٹالے کو انجام دے رہا تھا۔
مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس داراڈے شرد بھاسکر نے بدھ کو بتایا کہ 11 ستمبر کو تِلک نگر کی رہنے والی ایک نرس نے سائبر تھانے میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس نے انسٹاگرام پیج "ایلوس 12” پر پارٹ ٹائم نوکری کا اشتہار دیکھ کر ایک ٹیلی گرام گروپ جوائن کیا۔ وہاں اسے پُرکشش منافع کے وعدے کے ساتھ ٹاسک بیسڈ نوکریوں میں سرمایہ کاری کے لیے اُکسایا گیا اور اس سے 15.94 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ شکایت کی بنیاد پر سائبر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
سائبر پولیس کی ٹیم نے تحقیقات شروع کیں۔ انسٹاگرام اور ٹیلی گرام چینلز کا تکنیکی تجزیہ اور مالی لین دین کی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ دھوکہ دہی کی رقم زیادہ تر ملزم شبیر احمد سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کی گئی تھی، جن سے رقم چیک کے ذریعے نکالی جا رہی تھی۔ پولیس نے اُتم نگر میں چھاپہ مار کر شبیر احمد کو گرفتار کیا۔
بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے دو دیگر افراد کی شمولیت کا پتہ چلا، جس کے بعد بٹلہ ہاؤس میں چھاپہ مار کر سرفراز اور دلشاد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
دلشاد نے بتایا کہ وہ ٹیکنولوجی کا ماہر ہے اور تقریباً ایک سال پہلے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک چینی شہری سے رابطے میں آیا۔ چینی شہری نے اسے فراڈ کی رقم حاصل کرنے کے لیے ہندستانی بینک اکاؤنٹس کا انتظام کرنے کا کام دیا، جس کے بدلے اسے پانچ فیصد کمیشن ملتا تھا۔ دلشاد اور سرفراز مل کر بینک اکاؤنٹس کا بندوبست کرتے ، رقم نکالتے اور اسے یو ایس ڈی ٹی (کریپٹو کرنسی) میں تبدیل کر کے چینی شہریوں کو ڈیسنٹرلائزڈ ایکسچینج والٹس کے ذریعے بھیجتے تھے ۔ شبیر احمد ایک فیصد کمیشن پر نقدی نکالنے میں مدد کرتا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم شبیر پیشے سے پینٹر ہے ، دلشاد گریجویٹ کا طالب علم ہے جبکہ سرفراز، جو گینگ کا ماسٹر مائنڈ ہے ، ایم بی اے کا طالب علم ہے ۔ ان کے قبضے سے پانچ اسمارٹ فون، دس بینک پاس بُک، چودہ چیک بُک اور پانچ لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمان کے فراہم کردہ بینک کھاتوں میں حالیہ دنوں میں تقریباً 2.60 کروڑ روپے کا لین دین ہوا تھا۔ ان کھاتوں کے سلسلے میں مختلف ریاستوں سے 26 این سی آر پی شکایات درج تھیں۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے ۔









