لکھنؤ:یکم اکتوبر (یو این آئی)اترپردیش میں خواتین کو سماجی اور اقتصادی طورپر بااختیار بننے کی راہ میں سرکار کی پالیسیوں میں تبدیلیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں آج 50 فیصد سے زیادہ مکانات اور دیگر جائیدادیں اسٹامپ ڈیوٹی میں دی جانے والی رعایت کا فائدہ اٹھانے کے لیے خواتین کے نام پر خریدی اور رجسٹر کی جا رہی ہیں۔
سال 2006 میں ریاستی حکومت نے 10 لاکھ روپے تک کی جائیداد پر اسٹامپ ڈیوٹی میں ایک فیصد رعایت اور خواتین کے نام پر خریدی گئی جائیداد پر زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے تک کی چھوٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس قدم نے لاکھوں خاندانوں کو جائیداد خواتین کے نام منتقل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے جولائی 2024 میں یہ رعایت بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کی خریداری پر ایک فیصد کر دی، جس سے خواتین کو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے کا فائدہ حاصل ہونے لگا۔ گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست میں نصف سے زیادہ جائیدادوں کی خرید و فروخت خواتین کے نام پر ہوئی۔ 2022 میں 58.07 فیصد، 2023 میں 56.03 فیصد اور 2024 میں 55.75 فیصد جائیدادیں خواتین کے نام پر رجسٹر کی گئیں۔
سال 2024 میں ریاست بھر میں کل 26,19,823 رجسٹریوں میں سے 14,63,939 خواتین کے نام پر ہوئیں۔ اسی برس خواتین کے نام رجسٹری سے 88,552 کروڑ روپے کا اسٹامپ ڈیوٹی اور 15,847 کروڑ روپے کا رجسٹریشن فیس حاصل ہوا۔
اضلاع کے اعتبار سے دیکھیں تو لکھنؤ سب سے آگے رہا، جہاں خواتین کے نام پر 78,986 رجسٹریاں ہوئیں اور اس سے 9,800 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ غازی آباد دوسرے نمبر پر رہا جہاں 68,982 رجسٹریوں سے 12,354 کروڑ روپے جمع ہوئے ۔ نوئیڈا میں 43,900 رجسٹریوں سے 2,789 کروڑ، متھرا میں 43,727 رجسٹریوں سے 3,220 کروڑ اور پریاگ راج میں 39,397 رجسٹریوں سے 3,405 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔
رواں برس (جنوری تا جولائی) میں بھی یہی رجحان رہا اور سب سے زیادہ 50,853 رجسٹریاں لکھنؤ میں خواتین کے نام پر ہوئیں۔ اس کے بعد غازی آباد (39,317)، آگرہ (32,643)، نوئیڈا (27,194) اور متھرا (25,750) کا مقام رہا۔
اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ "اسٹامپ ڈیوٹی میں رعایت نے خواتین کو واقعی بااختیار بنایا ہے ۔ اب تنازعات کی صورت میں خواتین کے پاس حقیقی ملکیت ہوتی ہے اور وہ اپنے حق کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ 2006 سے پہلے خواتین کے نام پر صرف 10 سے 15 فیصد جائیدادیں ہی رجسٹر کی جاتی تھیں۔”
اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کی انسپکٹر جنرل نہا شرما نے کہا”اب 50 فیصد سے زیادہ معاملات میں خاندان خواتین کے نام پر مکان، پلاٹ یا کوئی اور جائیداد خریدنا پسند کرتے ہیں۔ یہ قدم بلاشبہ اترپردیش میں خواتین کے سماجی و اقتصادی بااختیاری کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا ہے ۔”








