’سنگھ کی روح کو دبانے کی کئی کوششیں ہوئیں، جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور الزامات لگائے گئے‘
نئی دہلی/یکم اکتوبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تقریبات میں اس تنظیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعدد حملوں کے باوجود سنگھ نے کبھی تلخی کا اظہار نہیں کیا اور ہمیشہ ’’راشٹر پرم‘‘ کے اصول پر کام جاری رکھا۔
یہاں آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے مودی نے سنگھ کی قوم سازی میں خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس نے ملک کے ہر کونے تک رسائی حاصل کی ہے، ذات پات اور مذہب کی تقسیم کو ختم کر کے ہم آہنگی قائم کرنے اور شمولیاتی سماج کا پیغام دینے کا مقصد اپنایا۔
مودی نے کہا ’’سنگھ نے انگریزوں کے مظالم کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کی واحد دلچسپی ہمیشہ وطن سے محبت رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سنگھ کے کارکنان نے آزادی کے متوالوں کو پناہ دی اور اس کے رہنما بھی تحریک آزادی کے دوران جیل گئے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سنگھ کی روح کو دبانے کی کئی کوششیں ہوئیں، جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور الزامات لگائے گئے۔
مودی نے کہا’’آر ایس ایس نے کبھی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، چاہے ان پر جھوٹے مقدمات بنانے کی کوشش ہوئی، چاہے انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا یا دیگر چیلنجز آئے، کیونکہ ہم اس سماج کا حصہ ہیں جو اچھے اور برے دونوں کو قبول کرتا ہے۔‘‘ یہ بات انہوں نے مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سنگھ پر عائد پابندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہی۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اْس وقت کے سنگھ کے سربراہ مادھو گولوالکر کو بھی غلط مقدمے میں پھنسا کر جیل بھیجا گیا۔انہوں نے کہا ’’لیکن جب وہ باہر آئے تو انہوں نے پْر سکون دانائی کے ساتھ کہا: کبھی کبھار زبان دانتوں کے نیچے آجاتی ہے، لیکن ہم دانت نہیں توڑتے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ہر ’سویم سیوک‘ کو جمہوریت اور آئینی اداروں پر غیر متزلزل اعتماد ہے، جس نے انہیں چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت دی۔انہوں نے کہا، ’’جب ایمرجنسی نافذ کی گئی، تو اسی اعتماد نے ہر سویم سیوک کو اس کا سامنا کرنے کی طاقت دی۔‘‘
مودی نے آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکے کا بھی اجراء کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ’۱۰۰ روپے کے سکے کے ایک طرف قومی نشان ہے اور دوسری طرف بھارت ماتا کی شان دار شبیہ ہے جو ورَدہ مدرہ میں دکھائی گئی ہے، ان کے ساتھ شیر بھی ہے جبکہ سویم سیوک عقیدت و ایثار کے ساتھ ان کے آگے جھک رہے ہیں۔‘‘
مودی نے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے کہ بھارت ماتا کی شبیہہ کو آزاد بھارت کی کرنسی پر شامل کیا گیا ہے، جو فخر اور تاریخی اہمیت کا لمحہ ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وجے دشمی کے دن آر ایس ایس کی بنیاد ۱۰۰ برس قبل رکھی گئی تھی، یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک ایسی روایت کی تجدید تھی جو ہزاروں برس سے جاری ہے۔انہوں نے کہا، ’’سنگھ اپنی ابتداء سے ہی حب الوطنی اور خدمت کی مترادف رہا ہے۔‘‘
مودی نے زور دے کر کہا کہ آر ایس ایس ’’ایک بھارت، عظیم بھارت‘‘ پر یقین رکھتا ہے لیکن آزادی کے بعد کوششیں کی گئیں کہ اسے قومی دھارے میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔
وزیر اعظم نے کہا ’’بھارت کی جان ہمیشہ اتحاد میں تنوع رہی ہے، اگر یہ اصول ٹوٹ جائے تو بھارت کمزور ہو جائے گا۔ چیلنجوں کے باوجود سنگھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور بے لوث ہو کر ملک کی خدمت کر رہا ہے۔‘‘
صد سالہ تقریبات کا اہتمام وزارتِ ثقافت نے کیا تھا، جن میں آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیکھاوت شریک ہوئے۔
یاد رہے کہ ۱۹۲۵ میں ناگپور میں کیشو بلی رام ہیڈگوار نے آر ایس ایس کی بنیاد رکھی تھی، جسے ایک رضاکار تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ شہریوں میں ثقافتی بیداری، نظم و ضبط، خدمت اور سماجی ذمہ داری کو پروان چڑھایا جا سکے۔
مودی خود بھی ایک وقت میں آر ایس ایس کے ’’پراچارک‘‘ رہے ہیں اور بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے ایک قابل منتظم کے طور پر اپنی پہچان قائم کی، جس کی نظریاتی تحریک کا ماخذ یہی ہندوتوا تنظیم ہے۔ (ایجنسیاں)









