رام اللہ، 30 ستمبر (یو این آئی) فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ ہم امریکی صدر کی غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی صدر اور دیگر شرکا سے جامع امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔
فلسطینی نیوز ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے بیان میں کہا ہے کہ 20 نکاتی پروگرام میں فلسطینی علاقوں کے الحاق کی بات کی گئی ہے جن میں غزہ، مغربی کنارہ بشمول مشرقی یروشلم شامل ہیں۔
اس معاہدے سے قبضے کے خاتمے کے بعد امن کو راستہ ملے گا، جس سے 2 ریاستی حل کے تحت آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
اس دوران مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے ۔
فلسطینیوں نے غزہ امن منصوبے ‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کوئی نیا مینڈیٹ قبول نہیں کریں گے ، اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون سے پیچھے ہٹیں گے ۔
خبر ایجنسی کے مطابق مغربی کنارے کے علاقوں ہیبرون اور رام اللّٰہ میں مقیم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات سے پہلے اب 150 سے زیادہ ممالک نے فلسطینی حق، فلسطینیوں کے وجود کے حق کو تسلیم کر لیا ہے لیکن بدقسمتی سے کل کی ملاقات میں فلسطینی مسئلے پر بالکل بھی بات نہیں کی گئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایک اور فلسطینی کا کہنا تھا کہ یہ نئے طریقہ کار کے ساتھ نیا کلونیلازم’ ہے جس میں فلسطین کی آزادی کے تمام اصول کل منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
رام اللّٰہ کے ایک فلسطینی نے کہا ہے کہ لوگ ٹرمپ کے منصوبے کے منتظر نہیں، لوگ عملی اقدامات، آزادی اور عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔










