’ جو عناصر علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کی زبان بولتے ہیں وہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کی توہین کرتے ہیں‘
سرینگر/۳۰ ستمبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو کہا کہ جو عناصر علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کی زبان بولتے ہیں وہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کی توہین کرتے ہیں اور ان کی روح کو زخمی کرتے ہیں۔’’ ایسے عناصر کے خلاف ملکی قوانین کے تحت سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سرزمین پولیس، فوج اور سی اے پی ایف کے شہداء کے خون اور قربانیوں سے تر ہے۔ ’’اگر کوئی ہندوستان کی خودمختاری یا پولیس شہداء کی یادوں کی بے حرمتی کرے گا تو اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر پولیس شہداء کی یاد میں منعقدہ ۲۰ویں ’’جموں و کشمیر پولیس میموریل فٹبال ٹورنامنٹ‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
سنہا نے جموں و کشمیر پولیس کے جانبازوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بے لوث خدمات اور عظیم قربانیوں نے ریاست میں سلامتی، استحکام اور امن و سکون کا ماحول قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ایل جی نے کہا ’’جموں و کشمیر ہماری بہادر فوج، پولیس اور سی اے پی ایف کے سپاہیوں کی قربانیوں کی روایت کی علامت ہے، اس لیے شہداء کی یادوں کو زندہ رکھنا نہ صرف فورسز بلکہ پورے سماج کی ذمہ داری ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے جانبازوں نے سماج کے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ان کاکہنا تھا’’آج جو امن، ترقی اور خوشحالی ہم دیکھ رہے ہیں، وہ انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ سماج ان قربانیوں کا قرض کبھی ادا نہیں کر سکتا، البتہ ہمیں اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو عزت و تکریم دینا یقینی بنانا ہوگا‘‘۔
تقریب کے دوران ایل جی سنہا نے جموں و کشمیر پولیس کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے ’’سِوک ایکشن پروگرام‘‘ کے تحت کی جانے والی کاوشوں پر بھی سراہا۔
سنہا نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی، جیتنے والی ٹیموں اور بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو ٹرافیاں اور نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔
فائنل میچ میں جموں کشمیر بینک نے کشمیر ایونجرز فٹبال کلب کو شکست دے کر ۲۰ویں ’’جموں و کشمیر پولیس میموریل فٹبال ٹورنامنٹ‘‘ کا اعزاز اپنے نام کیا۔
اس موقع پر ڈی جی پی نلن پربھات، اسپیشل ڈی جی کوآرڈینیشن پی ایچ کیو ایس جے ایم گلانی، اے ڈی جی پی آرمڈ آنند جین، پولیس و سول انتظامیہ کے سینئر افسران، فٹبال ایسوسی ایشن و کلبوں کے اراکین، کھیلوں کی نمایاں شخصیات اور بڑی تعداد میں نوجوان بھی موجود تھے۔
دریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج جموں میں ’وکسِت بھارت کے رنگ … کلا کے سنگ‘ کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے اسکول اور کالج کے طلبہ سے خطاب کیا۔ یہ پرجوش فنکارانہ ورکشاپ اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس اور ڈویڑنل ایڈمنسٹریشن جموں نے مشترکہ طور پر منعقد کی تھی۔
اپنے خطاب کے آغاز میں لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کی یووا شکتی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان سے تبدیلی کے لیے محرک بننے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب نہایت منفرد اور خاص ہے جو نوجوانوں کو اپنے خوابوں کے ترقی یافتہ بھارت کا تصور کرنے اور اسے کینوس پر اتارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
سنہا نے کہا ’’ترقی یافتہ بھارت کی تخلیق کی ذمہ داری صرف کینوس پر نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ان کے کندھوں پر ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں اپنے مکمل امکانات تک پہنچنے کے لیے وسائل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سنہا نے مزید کہا ’’سیوا پَرو نوجوان نسل کو مثبت سوچ کے ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ ان کی تخلیقی اور تعمیری سوچ انہیں مستقبل کے رہنما، موجد اور معمار بنائے گی اور وہ بھارت کی ترقی کی سمت طے کریں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قیادت کا کردار سنبھالیں اور قوم کی تعمیر کے لیے واضح مقاصد طے کریں۔
ایل جی نے کہا’’ہمارے نوجوان خوشحال مستقبل کی تشکیل، ثقافتی اقدار کے تحفظ اور جدت طرازی کے محرک ہیں۔ ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں اور ملک کو آگے بڑھائیں۔‘‘
سنہا نے نوجوان نسل اور معاشرے کے تمام طبقوں کو متنبہ کیا کہ وہ ہوشیار رہیں اور ان تخریبی طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ’وکسِت بھارت کے رنگ… کلا کے سنگ‘ پروگرام کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا اور اس پہل کو مستقل نوعیت دینے پر زور دیا۔ڈی آئی پی آر









