بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پاکستا ن کے زیر قبضہ کشمیر میں احتجاج

اسلام آباد کا کشمیر دشمن چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-30
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں حالیہ دنوں عوام کے عظیم الشان احتجاج نے اسلام آباد کے تمام بیانیے اور پالیسیوں کی قلعی کھول دی ہے۔ ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل کر جس بے باکی کے ساتھ اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سات دہائیوں پر محیط جبر اور استحصال نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ یہ احتجاج محض مہنگائی یا بجلی کے بلوں کے خلاف نہیں، بلکہ اس پورے نوآبادیاتی نظام کے خلاف ہے جو پاکستان نے اس خطے پر مسلط کر رکھا ہے۔
پاکستانی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی نمائندہ اور ان کے حقِ خود ارادیت کی علمبردار ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد نے سب سے زیادہ حق تلفی اپنے زیر قبضہ علاقے کے باسیوں کے ساتھ کی ہے۔ منگلا ڈیم کی پیداوار سے پورا پنجاب روشن ہوتا ہے مگر وہی عوام جن کی زمینیں اس منصوبے کی نذر ہوئیں آج بھی اندھیروں میں ہیں اور مہنگی ترین بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔
بنیادی اشیائے ضرورت پر سبسڈی ختم کر دی گئی ہے، آٹا عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے، جبکہ اسمبلی کی بارہ نشستیں ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو پاکستان میں مقیم ہیں۔ یہ نشستیں دراصل اسلام آباد کا ایسا ہتھیار ہیں جس کے ذریعے وہ ہمیشہ اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرتا رہا ہے اور مقامی عوام کو نمائندگی سے محروم رکھا گیا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ۳۸نکاتی مطالبات دراصل وہ آئینہ ہیں جس میں پاکستان کا اصل چہرہ جھلکتا ہے۔ عوام کا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ استحصالی نشستوں کو ختم کیا جائے، بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے اور اشرافیہ کی مراعات واپس لی جائیں۔ مگر اسلام آباد نے ہمیشہ کی طرح طاقت کا سہارا لیا۔ ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کرنا، شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر دینا، اور انٹرنیٹ منقطع کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان عوام کی آواز سننے کے بجائے اسے دبانے کے راستے پر گامزن ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ پاکستان کے اپنے دعووں کی کھلی تردید بھی ہے۔
مذاکرات کے نام پر عوام کو ٹرخانا دراصل اسلام آباد کی پرانی چال ہے۔ تیرہ گھنٹے کے طویل مذاکرات کا ناکام ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی حکومت کے نزدیک عوامی نمائندگی اور مطالبات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسلام آباد کا اصل مقصد ہمیشہ طاقتور حلقوں کے مفادات کا تحفظ رہا ہے، چاہے اس کے لیے پورے خطے کے عوام کو کچلنا ہی کیوں نہ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر موقع پر حکومت کے رویے نے عوامی بے چینی کو مزید بھڑکایا ہے۔
یہ احتجاج دراصل اس طویل سلسلے کا منطقی نتیجہ ہے جس میں عوام کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے کشمیر کے نام پر دنیا بھر میں سیاست تو کی مگر اپنے ہی زیر قبضہ علاقے کے عوام کو بنیادی حقوق دینے سے انکاری رہا۔ حکومت نے کشمیری عوام کو صرف نعروں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اب وہ مزید دھوکے میں آنے کے لیے تیار نہیں۔
اسلام آباد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام کو طاقت کے بل پر دبانا ناممکن ہے۔ جتنا زیادہ جبر ہوگا، اتنا ہی زیادہ ردعمل سامنے آئے گا۔ پاکستان کی حکومت اگر یہ گمان کر رہی ہے کہ انٹرنیٹ بند کرنے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے سے عوام کو گھروں میں بٹھایا جا سکے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ عوامی تحریکیں طاقت کے آگے نہیں جھکتیں بلکہ ان میں مزید توانائی آ جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک کھلا انتباہ ہے۔ اگر آج بھی اس نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو یہ شعلہ پورے خطے میں بھڑک سکتا ہے۔ گلگت بلتستان سمیت دیگر علاقے بھی برسوں سے ایسے ہی مسائل کا شکار ہیں۔ جب ایک جگہ عوام بیدار ہوتے ہیں تو اس کی گونج دوسری جگہوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ اسلام آباد اگر اصلاحات کا راستہ اختیار نہیں کرتا تو یہ آگ پھیلتے دیر نہیں لگے گی۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا راگ الاپتا ہے، مگر اپنے زیر قبضہ علاقے کے عوام کو غلام بنا کر رکھتا ہے۔ دنیا کی آنکھیں اب کھل چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیوں اور عوامی آواز کو دبانے کی یہ پالیسی پاکستان کو سفارتی محاذ پر مزید کمزور کرے گی۔ ایک ایسا ملک جو اپنے ہی زیر قبضہ عوام کو انصاف نہ دے سکے، وہ دنیا کے سامنے دوسروں کے لیے انصاف مانگنے کا کیا حق رکھتا ہے؟
آج عوام کا یہ احتجاج صرف مقامی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی پیغام میں ڈھل چکا ہے۔ یہ پیغام یہ ہے کہ عوام اب اپنی تقدیر کے فیصلے خود چاہتے ہیں۔ وہ اپنے وسائل پر اختیار اور اپنے نمائندوں کو خود منتخب کرنے کا حق مانگ رہے ہیں۔ یہ کوئی غیر منطقی یا ناممکن مطالبہ نہیں، بلکہ ہر آزاد معاشرے کا بنیادی اصول ہے۔
پاکستان کی حکومت کے پاس اب دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عوام کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، ان کے مطالبات تسلیم کرے اور ایک شفاف اور نمائندہ نظام قائم کرے۔ دوسرا یہ کہ وہ طاقت اور جبر کے ذریعے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو نتائج پاکستان کے قابو میں نہیں رہیں گے۔ عوامی شعور کی بیداری کو بندوقوں اور لاٹھیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اداریہ پاکستان کی حکومت کو یاد دہانی کراتا ہے کہ طاقت کے نشے میں بیدار عوام کی آواز کو دبانا ممکن نہیں۔ پوک کی گلیوں میں بلند ہونے والے یہ نعرے ایک واضح اعلان ہیں کہ لوگ اب مزید غلامی برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ یہ وقت ہے کہ اسلام آباد اپنی منافقانہ پالیسیوں کو ترک کرے اور اس خطے کے عوام کو وہ حقوق دے جو ان کا بنیادی حق ہیں۔ بصورت دیگر یہ آتش فشاں پھٹ پڑے گا اور اس کے شعلے خود اسلام آباد کی راہداریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مقابلہ… یکطرفہ مقابلہ !

Next Post

سوپور میں طویل عرصے سے مفرور اشتہاری مجرم گرفتار:پولیس

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
Next Post
بیٹے نے پیسوں کیلئے دوست کی مدد سے ماں کا قتل کیا:پولیس

سوپور میں طویل عرصے سے مفرور اشتہاری مجرم گرفتار:پولیس

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.