نئی دہلی، 26 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے اُس حکم پرروک لگا دی، جس میں کہا گیا تھا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ترو مالا تروپتی دیوستھانم میں پرسادم تیار کرنے میں استعمال ہونے والے مبینہ ملاوٹی گھی کی جانچ کے دوران سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے ۔
چیف جسٹس بی آر گوائی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بینچ نے سی بی آئی ڈائریکٹر کی درخواست پر متعلقہ فریقوں کے وکلا کی دلیلیں سننے کے بعد ہائی کورٹ کے اُس حکم پر روک لگانے کا حکم جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اُس تبصرے پر بھی روک لگا دی کہ سی بی آئی ڈائریکٹر نے الزامات کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے الگ ایک افسر کو نامزد کرکے عدالتِ عظمیٰ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے ۔
تین رکنی بینچ نے کہا کہ جب پوری جانچ کی نگرانی سی بی آئی ڈائریکٹر خود کر رہے تھے تو ایس آئی ٹی کے ذریعہ کسی دوسرے افسر کو تفتیش سونپنے میں کوئی غلطی نہیں تھی۔
بینچ نے سوال کیا، "اگر ایس آئی ٹی کسی خاص افسر کو مقرر کرنا چاہتی ہے ، تو اس میں کیا غلط ہے ؟”
ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے کڈورو چِنّپّنا کی جانب سے پیش ہونے والے ایک وکیل نے بینچ کے سامنے دلیل دی کہ سپریم کورٹ کے حکم میں یہ واضح طور پر ذکر تھا کہ ایس آئی ٹی میں سی بی آئی کے دو افسر، ریاستی پولیس کے دو افسر اور انڈین فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) کا ایک سینئر افسر شامل ہونا چاہیے ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ اس میں کسی اور کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم بینچ نے پوچھا، "کیا ایس آئی ٹی نے جانچ کی نگرانی ختم کر دی ہے ؟ وہ تو صرف ایک تفتیشی افسر کی تقرری کر رہی ہے ، جو اُن کے کنٹرول میں کام کر رہا ہے ۔”
مدعا علیہ کی نمائندگی کرنے والے ایک اور وکیل نے دلیل دی کہ مذکورہ افسر تفتیشی افسر کا کردار ادا کر رہا تھا اور ان کے مؤکل کو بیان دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدعا علیہ کو ہراساں اور دھمکایا جا رہا تھا۔
اس پر بینچ نے وکیل سے کہا، "آپ شکایت درج کریں۔”
سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ سی بی آئی ڈائریکٹر نے ایس آئی ٹی کے ساتھ میٹنگ کی اور صورتِ حال کا جائزہ لیا۔
بینچ کو بتایا گیا کہ یہ افسر، تفتیشی افسر(آئی او)، "صرف ایک ریکارڈ کیپر” تھا اور سی بی آئی ڈائریکٹر نے اسے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دی تھی۔
مسٹر مہتا نے کہا، "ایس آئی ٹی اپنا کام کر رہی ہے ۔ آئی او محض ایک ریکارڈ کیپر ہے ۔۔۔”
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اپنے متعلقہ فیصلے میں مانا تھا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر نے جے وینکٹ راؤ نامی ایک افسر کو (جو باضابطہ طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ نہیں تھے ) معاملے کی تفتیش کرنے کی اجازت دے کر سپریم کورٹ کی ہدایات کے برخلاف کام کیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ راؤ کو بطور خاص ایس آئی ٹی میں ریاست کے نمائندوں میں سے ایک کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کی 2024 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ایس آئی ٹی میں ڈائریکٹر کے ذریعہ نامزد دو سی بی آئی افسران، ریاست کے ذریعہ نامزد آندھرا پردیش پولیس کے دو افسران اور ایف ایس ایس اے آئی کا ایک سینئر افسر شامل ہونا چاہیے تھا۔
چِنّپّنا نے راؤ پر ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔










