نیویارک، 25 ستمبر (یو این آئی) دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آج وزارتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں اعلانِ نیویارک” کی تفصیلات اور حالیہ دنوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک میں اضافے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلانِ نیویارک واضح کرتا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کو ایک ہی فلسطینی سرزمین سمجھا جائے گا اور ہم کسی بھی قسم کے جبری انخلا یا اسرائیل کی طرف سے نئے حقائق مسلط کرنے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان دراصل دو ریاستی حل کو ایک عملی ذمے داری بنانے کا تقاضا کرتا ہے ، جبکہ اسرائیلی قبضہ نسل کشی، قحط اور سنگین خلاف ورزیوں میں اضافہ کر رہا ہے ۔
فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ سعودی عرب فلسطین کے جبری انخلا کی مخالفت کرتا ہے اور اسرائیلی قبضے کی مسلط کردہ نئی حقیقتوں کو قبول نہیں کرتا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ریاض غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے عرب و اسلامی منصوبے کی حمایت کرتا ہے اور کٹھن حالات کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی اصلاح کے حق میں ہے ۔
فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے اجلاس میں کہا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ انھوں نے زور دیا کہ غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانا سب سے بڑی ترجیح ہے ، ساتھ ہی دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی حمایت نا گزیر ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی بچوں کو جہنم سے نکال کر بہتر مستقبل دینا ایک مشترکہ بین الاقوامی فریضہ ہے ۔
سعودی عرب نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی ریاست کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے میں اضافہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کے اپنے مستقبل کے تعین، ریاست کے قیام، اپنی سرزمین پر امن و سکون سے رہنے اور ترقی و استحکام کے حق کو تسلیم کرتی ہے ۔
دوسری جانب اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنے والے سعودی عرب اور فرانس نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری محض بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات اٹھائے ، تاکہ مزید اعترافات کے ذریعے غزہ کی جنگ کو ختم کرنے میں مدد ملے ۔
اسی دوران سعودی عرب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ فرانس اور تمام امن دوست ممالک کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گا، تاکہ دو ریاستی حل کے اتحاد کے فیصلوں پر عمل درآمد ہو سکے ، غزہ میں جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے ، فلسطینی خود مختاری کو نقصان پہنچانے والے یک طرفہ اقدامات روکے جا سکیں اور خطے میں امن قائم ہو۔ ریاض نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے ۔









