واشنگٹن، 11 اگست (یو این آئی): امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ویزے منسوخ کرنے کی وجوہات میں جرائم، دھوکہ دہی، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، تشدد کی اپیلیں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ نے کہا، ”صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے ایسے غیر ملکی شہریوں کے ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے ہیں جنہوں نے اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جرائم کا ارتکاب کیا، امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی، امریکیوں کو دھوکہ دیا، امیگریشن نظام کا غلط استعمال کیا یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔”
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزوں کی منسوخی کی اکثریت ایسے معاملات کے بعد عمل میں آئی جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا غیر ملکی شہریوں سے واسطہ پڑا اور ان پر حملہ، نشے کی حالت میں گاڑی چلانے، چوری اور منشیات سے متعلق جرائم کے الزامات تھے۔
دیگر معاملات میں جنسی زیادتی، بچوں سے بدسلوکی، دھوکہ دہی، خرد برد اور لاپروائی سے ڈرائیونگ کے الزامات بھی شامل تھے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ ویزے امریکہ میں موجود غیر ملکی شہریوں کی جاری جانچ پڑتال کے تحت منسوخ کیے گئے۔
ویزوں کی منسوخی کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے متعدد غیر ملکی شہریوں کو خارجہ پالیسی کی بنیاد پر امریکہ سے ملک بدر کیے جانے کے قابل قرار دیا ہے۔ ان معاملات میں کیوبا اور ایران کے شہری شامل ہیں، جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے اثر و رسوخ کی کارروائیوں سے جوڑا گیا ہے، جبکہ لاؤس اور کویت کے شہری بھی ایسے معاملات میں شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق کویت سے متعلق ایک معاملے میں ایک غیر ملکی شہری نے ”امریکہ کے صدر کے خلاف تشدد کی خواہش” کا اظہار کیا اور امریکیوں کو اپنا ”دشمن” قرار دیا۔
محکمہ خارجہ نے کہا، ”صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو کی قیادت میں محکمہ خارجہ ایسے غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی، تحقیقات اور ان کے ویزے منسوخ کرنے کا عمل جاری رکھے گا جو امریکی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔” محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ ”امریکی ویزا ایک استحقاق ہے، حق نہیں۔”
محکمہ خارجہ نے بعض انفرادی معاملات کا بھی حوالہ دیا جن میں سنگین نوعیت کی عصمت دری اور جنسی زیادتی، اغوا اور انسانی اسمگلنگ، نابالغ کے جنسی استحصال، بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد اور گھریلو تشدد کے الزامات شامل تھے۔
محکمہ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ شمالی افریقہ میں ایک امریکی سفارتخانے نے 100 سے زائد ایسے والدین کے ویزے منسوخ کیے جنہیں ”برتھ ٹورسٹ” قرار دیا گیا۔ یہ افراد بنیادی طور پر اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے امریکہ گئے تھے تاکہ ان کے بچوں کو امریکی شہریت حاصل ہو سکے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق دھوکہ دہی کے الزامات میں ملوث غیر ملکی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے۔ ایک شخص پر الزام تھا کہ اس نے 50 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی مبینہ جعلی خدمات پر مشتمل میڈیکیڈ اسکیم کی منصوبہ بندی میں مدد کی۔ایک اور معاملے میں ایک شخص پر کاروباری آمدنی میں جعل سازی اور ویزا حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
محکمہ خارجہ نے ایسے غیر ملکی شہریوں کے معاملات کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ محکمہ کے مطابق ایک شخص نے لکھا، ”جب فاشسٹ مرتے ہیں تو ڈیموکریٹس شکایت نہیں کرتے”، جبکہ ایک دوسرے شخص نے کہا کہ کرک ”بہت دیر سے مرا”۔







