بیجنگ، 23 ستمبر (یواین آئی) چین کا نیا اور سب سے جدید ایئرکرافٹ کیریئر اپنے نئے الیکٹرومیگنٹ کیٹاپلٹ کے ذریعے 3 مختلف قسم کے طیارے کامیابی کے ساتھ لانچ کرچکا ہے ۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق چین کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی ہے کہ یہ کامیابی پہلی بار عوام کے سامنے جاری کی گئی فوٹیج میں دکھائی گئی، جسے ایک بڑی تکنیکی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے ۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ چین کا ففتھ جنریشن کا جے -35 اسٹیلتھ فائٹر، 4.5 جنریشن کا جے -15 ٹی فائٹر اور کے جے -600 ارلی وارننگ و کنٹرول طیارہ فُوجیان ایئرکرافٹ کیریئر سے ای ایم اے ایل ایس نظام کے ذریعے اُڑان بھرتے ہیں۔
سرکاری میڈیا نے ان تجربات کو چین کی ایئرکرافٹ کیریئر ٹیکنالوجی میں ایک اور ‘بریک تھرو’ اور بحری صلاحیتوں میں تبدیلی کا ایک ‘سنگِ میل’ قرار دیا ہے ۔
دنیا میں صرف ایک اور ایئرکرافٹ کیریئر اس نظام کا حامل ہے ، جو امریکی بحریہ کا نیا کیریئر یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ہے ، جسے بہار 2022 میں فلائٹ ڈیک آپریشنز کے لیے تصدیق ملی تھی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے ، جب امریکی کانگریس کا ایک وفد بیجنگ میں موجود ہے تاکہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں، جن میں عسکری سطح پر رابطے بھی شامل ہیں، یہ 6 برس بعد پہلا موقع ہے کہ ایسا کوئی وفد چین پہنچا ہے ۔
سابق امریکی نیوی کپتان اور تجزیہ کار کارل شوسٹر کے مطابق فُوجیان پر کامیاب تجربات، جن میں کیٹاپلٹ لانچ اور رُکنے والی لینڈنگ دونوں شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بحری جہاز آئندہ چند ہفتوں میں باضابطہ طور پر پیپلز لبریشن آرمی نیوی (پی ایل اے این ) کے بیڑے میں شامل ہو سکتا ہے ۔
آئندہ چند مہینوں میں مزید سرٹیفکیشن متوقع ہیں، جب کہ اگلے سال بہار تک اس کے فضائیہ اور راکٹ فورس کے ساتھ انضمام کے آخری تجربات کیے جانے کا امکان ہے ۔






