چنڈی گڑھ، 19 ستمبر (یواین آئی) سنیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے سپریم کورٹ کی جانب سے پرالی جلانے پر کسانوں کو جیل بھیجنے کے حکم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اپنے احکامات پر دوبارہ غور کرے اور کسانوں کو گرفتار کرنے کے فیصلے کو واپس لے ۔
سنیوکت کسان مورچہ کے صدر بلبیر سنگھ راجیوال، مسٹر بوٹا سنگھ برجگل اور مسٹر کُلوَنت سنگھ سندھو نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پنجاب کے کسان انّ داتا ہیں۔ آج انسانی کوتاہیوں کے سبب انہیں خوفناک سیلاب کی تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ پنجاب کے کسانوں کے لیے ایک بہت بڑا اقتصادی دھچکہ ہے ۔ کھیتوں میں کھڑی دھان کی فصل کئی خطرناک بیماریوں سے گھِر گئی ہے ، جس کی وجہ سے پیداوار کم از کم 30 فیصد گھٹ جائے گی۔ ایسے وقت میں سپریم کورٹ نے پرالی جلانے پر کسانوں کو جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔
مسٹر راجیوال نے کہا کہ اگرچہ ہم پرالی جلانے کے حامی نہیں ہیں، لیکن ہمارے ججوں کو یہ جاننا چاہیے کہ پرالی کا دھنواں آلودگی کا صرف آٹھ فیصد ہے ۔ دہلی کی آلودگی میں سب سے بڑا حصہ دہلی کی سڑکوں پر روزانہ چلنے والی ایک کروڑ گاڑیاں، اسکوٹر، موٹر سائیکل، آٹو رکشہ، کار، بسیں، ہوائی جہاز اور ٹرک وغیرہ ہیں۔ دہلی کی صنعتیں، اس کے ہوائی جہاز، بلڈر، گھروں اور ہوٹلوں میں استعمال ہونے والی گیس بھی اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ صنعتیں سال بھر مسلسل ماحول کو آلودہ کرتی ہیں، لیکن سپریم کورٹ نے کبھی انہیں جیل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا










