نئی دہلی، 16 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے زندگی اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہونے کے پیش نظر راجستھان کی جوجری ندی میں چھوڑے جانے والے صنعتی فضلات کے معاملے میں منگل کے روز از خود نوٹس لیا۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کہا کہ صنعتی فضلہ، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور دیگر کارخانوں سے گندہ پانی ندی میں چھوڑنے سے سینکڑوں دیہات متاثر ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں کا پینے کا پانی اب انسانوں اور جانوروں دونوں کے پینے کے قابل نہیں رہ گیا ہے ۔
بنچ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی اور مناسب احکامات کے لیے معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کا حکم دیا۔
بنچ نے کہا، "یہ عدالت راجستھان کی مرودھرا جوجری ندی کا ازخود نوٹس لے رہی ہے ۔ صنعتی فضلہ، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ٹائل فیکٹریوں سے گندہ پانی اس ندی میں چھوڑا جا رہا ہے ، جس کی وجہ سے سیکڑوں گاؤں متاثر ہو رہے ہیں۔ علاقے کا پانی اب جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے پینے کے قابل نہیں ہے ۔”
اطلاعات کے مطابق راجستھان کے گاؤں تقریباً دو دہائیوں سے آلودہ جوجری ندی کے اثرات سے دوچار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیل اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں سے کیمیکل آلودہ پانی ندی میں گرتے ہیں جس سے حیاتیاتی تنوع اور لوگوں خصوصاً خواتین کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔
واضح رہے کہ جوجری ندی ایک موسمی ندی ہے جو ناگور کے پنڈالو گاؤں سے نکلتی ہے اور بلوترا میں لونی ندی سے ملتی ہے ۔ جب یہ جودھ پور کی سرحد سے گزرتی ہے تو شہر کی ٹیکسٹائل اور اسٹیل کی صنعتوں سے کیمیکل سے آلودہ پانی اس میں بہتا ہے ۔










