سرینگر/۱۵ستمبر
وادی کشمیر میں پیر کو تمام فروٹ منڈیاں بند رہیں کیونکہ باغبانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سرینگر،جموں قومی شاہراہ پر پھل سے لدے ٹرکوں کی بلا رکاوٹ نقل و حمل کو یقینی بنانے میں سرکار ناکام ثابت ہوئی ہے ۔
باغبانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شاہراہ کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو آئندہ دو روز میں وادی گیر ہڑتال شروع کی جائے گی۔
ایشیا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی سوپور میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جہاں باغبان آبدیدہ ہوکر اپنی سال بھر کی محنت کے ضائع ہونے پر فریاد کر رہے تھے ۔ کئی کسانوں نے الزام لگایا کہ ان کے ٹرکوں میں لدے سیب سڑک پر پھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔
فروٹ منڈی سوپور کے صدر فیاض احمد ملک نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا’’اگر وزیر اعلیٰ پھل سے لدے ٹرکوں کی آمد و رفت بحال نہیں کر سکتے تو انہیں کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، بہتر ہے استعفیٰ دیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ آج تک کسی بھی ایم ایل اے نے باغبانوں کے حق میں ایک لفظ نہیں بولا۔
احتجاجی باغبانوں نے دعویٰ کیا کہ لوہے اور دیگر اشیائے خورد و نوش سے لدے ٹرکوں کو شاہراہ سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ پھل بردار گاڑیوں کو دانستہ روکا جا رہا ہے ۔
فیاض احمد ملک نے واضح کیا کہ اگر آئندہ۴۸گھنٹوں میں شاہراہ کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا گیا تو وادی گیر ہڑتال کی کال دی جائے گی جس سے خطے کی معیشت مفلوج ہو سکتی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ وادی کی تمام بڑی منڈیاں، بشمول سوپور، ہندوارہ، شوپیاں، کولگام اور اننت ناگ‘۱۴؍اور۱۵ ستمبر کو دو روزہ بندش کی کال کے تحت بند رہیں۔
میوہ صنعت سے جڑے تاجروں کے مطابق قومی شاہراہ پر سینکڑوں پھل بردار ٹرک کئی دنوں سے درماندہ پڑے ہیں جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور کسانوں کی محنت ضائع ہو رہی ہے ۔
دریں اثنا پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے سرینگر، جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحمل متاثر رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے میوہ صنعت کو نقصان پہنچنے پر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
لون نے کہا’’خراب موسم حکومت کی غلطی نہیں ہے ۔ لیکن خاموش تماشائی کی طرح بیٹھنا اور کچھ نہ کرنا مجرمانہ عمل ہے ‘‘۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے یہ باتیں پیر کو’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کیں۔
لون نے کہا’’ملک کے باقی حصوں کے لیے پہنچنے والے سیب سڑنے لگ گئے ہیں۔ سیب کے کاشتکاروں کے لیے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ کچھ تدارکی اقدامات ضرور ہوں گے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’خراب موسم حکومت کی غلطی نہیں ہے ۔ لیکن خاموش تماشائی کی طرح بیٹھنا اور کچھ نہ کرنا مجرمانہ عمل ہے ‘‘۔
لون نے عمر عبداللہ سے قومی شاہراہ پر ٹرکوں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کیلئے ایک حکمت عملی بنانے کا مشورہ دیا۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا’’وزیراعلیٰ صاحب کو میرا عاجزانہ مشورہ ہے ۔ ملک بھر میں بے مقصد گھومنا بند کریں، اپنے افسران اور متعلقین کے ساتھ بیٹھیں اور ایک حکمت عملی بنائیں‘‘۔
رکن اسمبلی کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب سیب سے لدے ٹرک قومی شاہراہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کی صبح بڈگام سے آدرش نگر دہلی تک پہلی وقف پارسل ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جس میں روزانہ کئی ٹن میوہ سری نگر سے دہلی پہنچ جائے گا۔









