لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے آج جموں یونیورسٹی کے یومِ تاسیس کی تقریب میں کلیدی خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی سے کہا کہ وہ تحفظِ ماحول کے لیے اختراعات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لائے، تعلیم میں پائیداری کو شامل کرے اور طلبہ کو ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کرے تاکہ ’وکست بھارت‘کی تعمیر میں کردار ادا ہو۔
سنہا نے کہا’’ہماری نوجوان نسل کو ایسا ترقیاتی سفر آگے بڑھانا چاہیے جو سماجی ضرورتوں کو پورا کرے لیکن ماحولیاتی نظام کو نقصان نہ پہنچائے، اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے جدید اختراعات سے فائدہ اٹھائے۔ ہمیں کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے زمین کو بہتر بنایا جا سکے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فیکلٹی ممبران پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ ترقی اور فطرت کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینِ مادر کی حفاظت اور سماج کے ہر سطح پر ماحولیاتی شعور کی ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یونیورسٹی کے یومِ تاسیس پر وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران، غیر تدریسی عملے اور طلبہ کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نئے اور چیلنجنگ اہداف مقرر کریں اور انہیں نئی امنگ اور جوش کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ایل جی نے کہا’’آج کا دن خود احتسابی، خود تلاش اور خود آگاہی کا بھی موقع ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں نے حال ہی میں جاری ہونے والی این آئی آر ایف۲۰۲۵ رینکنگز میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ رینکنگز جہاں ایک طرف اعلیٰ تعلیم میں انقلاب اور تبدیلی کی نشانی ہیں، وہیں ہمیں ان کا تنقیدی جائزہ لے کر نئے اہداف بھی طے کرنے چاہئیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کیمپس میں تبدیلی کا عمل بلا تعطل جاری رہنا چاہیے تاکہ طلبہ پْرعزم رہیں، سیکھنے کے شوقین ہوں، کچھ نیا کرنے کی لگن رکھیں اور مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
ایل جی نے کہا’’حقیقی دنیا کا تجربہ نظریہ اور عمل کے درمیان پْل کا کام کرتا ہے۔ کلاس روم کو سوچ کا کمرہ بننا چاہیے، تجسس اور تخلیقی صلاحیت سے بھرپور۔ ہمیں تجربے پر مبنی، بین الشعبہ جاتی، زندگی سے متعلق ہنر اور منصوبہ جاتی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو غیر متوقع دنیا کے لیے تیار کیا جا سکے‘‘۔
سنہا نے یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی پروفیشنل پروگرام شروع کرے اور سیلاب و لینڈ سلائیڈز پر تحقیقی کام کرے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’آج پوری دنیا قدرتی آفات سے متاثر ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تباہی اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ حکومتِ ہند پوری طرح سے پرعزم ہے کہ عام زندگی کو دوبارہ بحال کیا جائے اور متاثرہ لوگوں کی درست طور پر باز آبادکاری ہو‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ جیسے ہی سڑک رابطے مکمل طور پر بحال ہوں، یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے گروپ مختلف علاقوں میں بھیجے اور رضاکاروں کی ایک ٹیم تیار کرے جو ضلعی انتظامیہ کی ریلیف اور باز آبادکاری کے عمل میں معاونت کر سکے۔
تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی کے سابق طلبہ کو بھی اعزاز سے نوازا اور ان سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کی ترقی میں اپنا قیمتی کردار ادا کریں۔
این ایس ایس اور این سی سی کے رضاکاروں کے علاوہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو بھی اس موقع پر اعزاز دیا گیا۔
پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (ناردرن ریجن ٹرانسمیشن سسٹم دوم) نے اپنی کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) پہل کے تحت جموں یونیورسٹی کو پی اے سسٹم اور اسٹریٹ لائٹس فراہم کیں۔









