جب ملک میں ۲۰۱۷ میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) متعارف کرایا گیا تو اسے ’’ون نیشن، ون ٹیکس‘‘ اصلاح قرار دیا گیا جس کا مقصد ملک کے منتشر بالواسطہ ٹیکس ڈھانچے کو یکجا کرنا تھا۔ لیکن برسوں کے دوران اس کی پیچیدگی ‘ متعدد سلیبز، بار بار کی تبدیلیاں، اور غیر یکساں تعمیل‘ نے صارفین اور چھوٹے کاروباریوں دونوں پر بوجھ ڈالا۔ اس ماہ جی ایس ٹی کونسل نے بالآخر بڑا قدم اٹھایا ہے: اس نے ایک نیا، سادہ دو سطحی جی ایس ٹی نظام منظور کیا ہے، جس کی شرحیں۵ فیصد اور ۱۸ فیصد ہوں گی، اور یہ ۲۲ ستمبر سے نافذ ہوگا۔
کاغذ پر یہ محض ایک معقول بنانے کا اقدام دکھائی دیتا ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ حالیہ برسوں کی سب سے اہم صارف دوست اصلاحات میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔ عام بھارتی گھرانے کے لیے یہ بات معاشی تھیوری سے زیادہ عملی ہے ۔ یہ کریانے کی دکان کا روزانہ کا بل ہے، دواؤں کی قیمت ہے، ایک اسکوٹر یا نئے گھر کے لیے سیمنٹ کا نرخ ہے۔ یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں حقیقی راحت کا وعدہ رکھتی ہیں جب مہنگائی بلند ہے اور عالمی معیشت دباؤ میں ہے۔
اب تک جی ایس ٹی پانچ بڑی شرحوں میں تقسیم تھا …۰‘۵‘۱۲‘۱۸؍اور۲۸… اس کے ساتھ ساتھ ’’ڈی میرٹ‘‘ اشیاء جیسے تمباکو، لگڑری کاریں اور سافٹ ڈرنکس پر اضافی معاوضہ سیس بھی لاگو تھا۔ اگرچہ اس درجہ بندی کا مقصد یہ تھا کہ بنیادی اشیاء پر کم اور لگڑری اشیاء پر زیادہ ٹیکس لگے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیاء درمیانی شرحوں میں پھنس گئیں۔ ٹوتھ پیسٹ پر۱۸ فیصد، شیمپو پر ۲۸ فیصد، سیمنٹ پر ۲۸فیصد ‘ یہ سب مل کر ماہانہ بجٹ پر نمایاں بوجھ ڈال رہے تھے۔
سب سے نمایاں فائدہ یہ ہے کہ بہت سی بنیادی اشیاء سستی ہو جائیں گی۔ کونسل کے فیصلوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر سامان کو زیادہ شرحوں سے ۵ فیصد یا حتیٰ کہ ۰ فیصد کیٹیگری میں منتقل کیا گیا ہے۔ روزانہ استعمال کی بنیادی غذائیں جیسے الٹرا ہائی ٹمپریچر ملک، پنیڑ، روٹی، پراٹھا اور دیگر بریڈ اب زیرو ریٹڈ ہیں۔ پیکڈ فوڈ جیسے نمکین، نوڈلز، ساس، پاستا، چاکلیٹ، کافی اور مکھن سب کو ۵ فیصد پر لا دیا گیا ہے۔ عام گھرانے کے لیے اس کا مطلب ہے کہ ماہانہ کریانے کا خرچ سینکڑوں روپے تک کم ہو سکتا ہے۔ ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، بالوں کا تیل، صابن اور شیمپو ‘جو کبھی ۱۸سے ۲۸ فیصد پر تھے ‘اب ۵ فیصد پر ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو تقریباً ہر گھرانے کی ٹوکری میں شامل ہوتی ہیں۔ یہ کمی بیک وقت علامتی اور حقیقی ہے۔
سب سے اہم فیصلہ شاید دواؤں پر ہے۔ ۳۳جان بچانے والی ادویات پر جی ایس ٹی کو ۱۲ فیصد سے صفر کر دیا گیا ہے، جبکہ کینسر، نایاب اور دائمی بیماریوں میں استعمال ہونے والی دواؤں کو ۵ فیصد سے صفر پر منتقل کیا گیا ہے۔ دیگر ضروری ادویات کو ۵ فیصد پر مقرر کیا گیا ہے۔ اْن خاندانوں کے لیے جو بیماریوں سے لڑ رہے ہیں اور جہاں دواؤں کا خرچ ہر ماہ ہزاروں میں جاتا ہے، یہ فوری راحت ہے۔ سیمنٹ، جس پر ۲۸ فیصد ٹیکس کو ہمیشہ زیادہ قرار دیا جاتا رہا ہے، اب ۱۸ فیصد پر ہے۔ افراد جو گھر بنا رہے ہیں، چھوٹے ٹھیکیدار، یا حکومت کی اپنی ہاؤسنگ اسکیمیں، اس ایک فیصلے سے لاکھوں کی بچت کر سکتے ہیں۔
زرعی آلات ‘جن مین ٹریکٹر، کٹائی کی مشینیں، بیلرز، کمپوسٹرز شامل ہیں‘ کو ۱۲ فیصد سے ۵فیصد پر لایا گیا ہے۔ دیہی بھارت میں، جہاں زراعت روزگار اور بقا دونوں ہے، یہ مکینائزیشن کی لاگت کو کم کرتا ہے اور پیداوار بڑھانے میں مددگار ہے۔
چھوٹی کاروں، ۳۵۰ سی سی تک کی موٹر سائیکلوں، ایئر کنڈیشنرز، ڈش واشرز اور ۳۲, انچ سے بڑی ٹیلی ویڑنز پر جی ایس ٹی کو ۲۸ فیصد سے کم کر کے ۱۸ فیصد کرنا وسیع سماجی اثرات رکھتا ہے۔ شہری اور نیم شہری خاندانوں کے لیے موٹر سائیکل لگڑری نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اسے نچلی شرح پر لانے کا مطلب ہے کہ لاکھوں لوگوں کے لیے زیادہ سہولت اور نقل و حرکت۔ متوسط طبقے کے خواہشمندوں کے لیے چھوٹی کاریں کچھ کم مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کا تعلق بڑے معاشی اہداف سے بھی ہے: جب آٹو موبائل سیلز میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ ضمنی صنعتوں کو متحرک کرتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور معیشت میں مانگ کو بڑھاتا ہے۔ اس طرح شوروم پر ٹیکس میں کمی کا اثر پوری معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
یہ اصلاح ایسے وقت آئی ہے جب مہنگائی گھریلو آمدنی کو کھا رہی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، خوراک کی مہنگائی اور عالمی سپلائی میں رکاوٹوں نے ہر سطح کے خاندانوں کو دباؤ میں ڈالا ہے۔ جی ایس ٹی کو نیچے لا کر حکومت بنیادی طور پر ٹیکس کا کچھ بوجھ اپنے سر لے رہی ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر خزانہ نے ۴۷ہزار۷۷۰ کروڑ روپے کے ریونیو نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ نمایاں ہے، لیکن یہ ایک پالیسی فیصلہ بھی ہے: صارفین کو ریلیف اور مانگ کو فروغ دینے کو فوری مالی فائدے پر ترجیح دینا۔ یہ فیصلہ بروقت ہو سکتا ہے۔ امریکی ٹیرف برآمدات میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور عالمی ترقی سست ہے، ایسے میں بھارت کو گھریلو کھپت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صارف کی سطح پر کم جی ایس ٹی لوگوں کو زیادہ خرچ کرنے پر براہ راست مائل کرتا ہے۔
عام شہری کو کیا سمجھنا چاہیے؟ کہ حکومت نے اْن کی جیب میں پیسے واپس ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے، اور یہ ایسے انداز میں کیا گیا ہے جو روزمرہ زندگی میں نظر آتا ہے۔ دواؤں سے دودھ تک، صابن سے اسکوٹر تک، اثر جلد ہی محسوس ہوگا۔




