نئی دہلی، 4 ستمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سنگاپور کے درمیان شراکت داری کو باہمی مفادات، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ وژن سے متاثر قرار دیتے ہوئے اسے مختلف شعبوں میں مزید گہرا کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا ہے ۔
دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو روایتی شعبوں سے ہٹ کر کئی دیگر شعبوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ہندوستان کے دورے پر آئے سنگاپور کے وزیر اعظم لارنس وانگ کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان میں مسٹر مودی نے کہا کہ وزیر اعظم وانگ کا دورہ اور بھی خاص ہے کیونکہ اس سال ہم اپنے تعلقات کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سنگاپور کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا درجہ دیا تھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس ایک سال میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اور تعاون نے رفتار اور گہرائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ‘‘آج، جنوب مشرقی ایشیا کے علاقے میں، سنگاپور ہمارا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے ۔ سنگاپور سے ہندوستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے ۔ آج ہم نے اپنی شراکت داری کے مستقبل کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ تیار کیا ہے ۔’’
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تعاون صرف روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہے گا۔ بدلتے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید مینوفیکچرنگ، گرین شپنگ، اسکل ڈیولپمنٹ، سول نیوکلیئر اور اربن واٹر مینجمنٹ جیسے شعبے بھی ہمارے تعاون کے فوکل پوائنٹس بنیں گے ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان بحرالکاہل خطے میں تعاون اور امن و استحکام کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے آسیان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ممالک کے تحفظات یکساں ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسانی ہمدردی والے ممالک کا فرض ہے کہ وہ یکجہتی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔’’
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بامقصد شراکت داری ہے ، جو مشترکہ اقدار پر مبنی ہے ، جو باہمی مفادات کی رہنمائی کرتی ہے اور امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ وژن سے متاثر ہے ۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے ہوا بازی، خلا اور ہنر مندی کے فروغ کے شعبے میں تین مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کیے ۔یو این آئی۔ این یو۔










