ندائے مشرق ڈیسک
سرینگر/۳ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ مجوزہ جی ایس ٹی اصلاحات سے مرکز کے زیر انتظام خطے کی آمدنی میں ۱۰ سے۱۲ فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جس سے شدید مالی بحران میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد عوامی آمدنی ’’زمین بوس‘‘ ہو گئی ہے۔
۵۶ویں جی ایس ٹی کونسل اجلاس میں پیش کی گئی اپنی تحریری تقریر میں انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی مالی استحکام کیلئے موزوں میکنزم قائم کرنے پر زور دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’معاشی سرگرمیوں کے بڑے شعبے جیسے سیاحت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور آٹوموبائل اپریل۲۰۲۵ کے بعد ٹھپ ہو چکے ہیں۔ مجوزہ اصلاحات ہماری جی ایس ٹی آمدنی کو مزید۱۰تا۱۲ فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔ لہٰذا بحیثیت وزیر خزانہ جموں و کشمیر، میری رائے ہے کہ مالی استحکام کے لیے موزوں میکنزم اور حفاظتی اقدامات قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے اس واقعے کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے مرکز سے اپیل کی کہ جی ایس ٹی ریٹ ریونیو کی ازسرنو ترتیب کے تناظر میں اس بحران سے نکلنے کے لیے مدد فراہم کی جائے۔
وزیرا علیٰ نے کہا ’’ہم ریٹ ریونیو کی ازسرنو ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ریاستوں/یو ٹیز کی مالی استحکام کیلئے معاوضہ دینے کا میکنزم وضع کیا جانا چاہیے تاکہ اس ریونیو کے فائدے عوام تک کم قیمتوں کی شکل میں پہنچ سکیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کو ہر ریاست اور یو ٹی کے منفرد چیلنجز کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح مقامی معیشت نئی جان پکڑ رہی تھی کہ ’’اپریل ۲۰۲۵ کے پہلگام واقعے‘‘ نے اسے شدید جھٹکا دیا۔ اس کے بعد سے بڑے شعبے بشمول سیاحت، دستکاری، باغبانی اور زراعت تقریباً بند ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی زیر صدارت جی ایس ٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ ملک کے سامنے موجود ’’جیو پولیٹیکل چیلنجز‘‘ اور اس حملے کے بعد خطے پر بڑھنے والے شدید مالی دباؤ کو بھی ایجنڈے پر لائیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ روزگار اور کاروبار کے بڑے پیمانے پر نقصان کے ساتھ ساتھ عوامی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ غیر مقامی مزدوروں کے انخلا نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بھی سست کر دی ہے۔
وزیرا علیٰ نے کہا ’’گزشتہ سال پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں عوام نے پرجوش شرکت کی تھی لیکن جیسے ہی معیشت سنبھلنے لگی تھی، پہلگام واقعہ پیش آیا۔ آج سیاحت، دستکاری، باغبانی اور زراعت سمیت تمام شعبے بری طرح متاثر ہیں اور غیر مقامی مزدوروں کے جانے سے انفراسٹرکچر منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔‘‘
دو سطحی (۵؍ اور۱۸ فیصد) جی ایس ٹی ڈھانچے کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’میری سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ہم کیسے اس ریٹ ریونیو کی ازسرنو ترتیب کو عام آدمی کے بوجھ کو کم کرنے اور اشیاء و خدمات کو عوام کے لیے زیادہ سستا بنانے کو یقینی بنائیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اصلاحات تنازعات، پیچیدہ ڈھانچوں اور تعمیل کی دشواریوں کو کم کریں گی۔ وزراتی گروپ اور مرکز کی تجاویز سے تجارت اور صنعت کو وضاحت، مقدمات میں کمی اور تعمیل میں اضافہ حاصل ہوگا، اس لیے وہ ان سفارشات کی حمایت کرتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے زور دیا ’’ہمیں نظامی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ یقین ہو سکے کہ مجوزہ ریٹ تبدیلیوں کے فائدے براہِ راست صارفین تک پہنچیں اور بیچ کی کڑیوں میں منافع خوری نہ ہو۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے قومی سطح کے معاشی مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی شرح نمو اچانک جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے اور نوآبادیاتی دور کی ’’من مانے تجارتی پالیسیوں‘‘ کی وجہ سے بھارت کی ۲۰ فیصد عالمی منڈی تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے جس سے زراعت، دستکاری اور جیولری کے ہزاروں کارکن متاثر ہوں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’گزشتہ آٹھ برسوں میں جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس ڈھانچے، انتظامی میکنزم اور ٹیکنالوجی میں اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ ریونیو میں اضافہ ہو اور ایماندار ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے۔ لیکن پچھلا سال جموں و کشمیر اور ملک دونوں کے لیے چیلنجنگ رہا۔ ہماری معیشت ۶تا۷فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، برآمدی مسابقت میں اضافہ ہوا ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر ۶۶۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ لیکن آج نوآبادیاتی دور کی پالیسیوں کی وجہ سے ہماری عالمی منڈی تک رسائی خطرے میں ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پالیسیاں ہمیں تقریباً ۲۰ فیصد عالمی منڈی سے محروم کر دیں گی اور زراعت، دستکاری، سمندری مصنوعات اور جیولری کے ہزاروں کارکنوں اور کاروباریوں کو شدید متاثر کریں گی۔










